1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے خلاف طاقت کا استعمال، جرمنی کی مخالفت

لیبیا میں حکومتی فورسز کی طرف سے مخالف طاقتوں پر بھاری اسلحے کے استعمال کے بعد فرانس اور برطانیہ لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے کے حمایت کر رہے ہیں ، تاہم جرمنی نے لیبیا میں عسکری مداخلت کی مخالف کر دی ہے۔

default

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے

لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرین پر حکومتی فورسز کے تازہ حملوں کے بعد فرانس اور برطانیہ نے قذافی کو کہا ہے کہ اگر وہ اپنے ہی عوام کے خلاف اس طرح طاقت کا استعمال جاری رکھیں گے تو وہ لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے پر زور دیتے رہیں گے۔

لیبیا کے ایک بڑے علاقے پر قابض حکومت مخالف گرہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ قذافی کی فورسز کے خلاف فضائی کارروائی کریں۔ بن غازی شہر میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ قذافی ان کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ’کرائے کے جنگجو‘ بھرتی کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کی قومی کونسل LNC نے کہا ہے کہ قذافی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

NO FLASH Libyen Situation im Osten

مغربی ممالک قذافی کی جارحیت روکنے کے لیے متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک ملاقات کے بعد کئی یورپی رہنماؤں نے کہا ہے کہ قذافی کے خلاف عسکری کارروائی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری لازم ہے۔

اس صورتحال میں تاہم جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا ہے کہ برلن حکومت لیبیا میں فوجی مداخلت کے خلاف ہے،’ ہم لیبیا میں عسکری کارروائی کی بحث میں شریک نہیں ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی کوئی بھی کارروائی انتہائی غیر سود مند ثابت ہو گی‘۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کی کوشش ہے کہ قذافی اور ان کے ساتھیوں کو تنہا کر دیا جائے۔

ویسٹر ویلے نے سلوواکیہ میں وسطی یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک ملاقات کے بعد کہا کہ ابھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ وہاں نو فلائی زون قائم کرنے کی بات کی جائے،’ اس وقت ہمارا اولین مقصد لیبیا سے غیر ملکیوں کا انخلاء ہونا چاہیے‘۔

دوسری طرف امریکی صدر باراک اوباما نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ قذافی کو اپنے عوام کے خلاف کریک ڈاؤن کو ختم کرتے ہوئے اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔ امریکی حکام کہہ چکے ہیں کہ قذافی کی طرف سے جارحیت روکنے کے لیے وہ تمام متبادل راستوں پرغور کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM