1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے حلیف ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں

ایک زمانے میں بر اعظم افریقہ میں ’بادشاہوں کے بادشاہ‘ کہلانے والے لیبیا کے رہنما معمر قذافی تیزی سے بیگانگی کا شکار ہو رہے ہیں، اور ان کے حلیف بھی اب ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں۔

default

معمر قذافی

افریقی ممالک سینیگال، موریطانیہ، لائبیریا، چاڈ اور گیمبیا نہ صرف یہ کہ معمر قذافی سے دوری اختیار کر چکے ہیں، بلکہ وہ لیبیا کے رہنما کے خلاف برسرِ پیکار باغیوں کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے علاوہ علاقے کے کئی ممالک براہِ راست باغیوں کی حمایت نہیں کر رہے لیکن امید لگائے بیٹھے ہیں کہ قذافی کے اقتدار کا جلد خاتمہ ہو جائے گا۔

ایسا کیونکر ہوا؟ قذافی جیسا طاقتور اور با اثر رہنما اتنا محدود کیسے ہو کر رہ گیا؟ تجزیہ کاروں کی رائے میں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ لیبیا سمیت شمالی افریقی اور شرق ِ اوسط کے ممالک میں، جہاں مطلق العنان حکمران ایک عرصے سے اقتدار پر قابض ہیں، اب اس خطے کے عوام ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سرمایہ کار تیل کی دولت سے مالامال لیبیا میں سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں اور قذافی تمام ملکی معاملات پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔

NO FLASH Muammar Gaddafi

دائیں سے بائیں: سابق مصری صدر حسنی مبارک، معمر قذافی، یمنی صدر علی عبداللہ صالح، اور تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی

پچاس ملکوں پر مشتمل افریقی یونین بھی قذافی سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔ گو کہ افریقی یونین کا لیبیا کے بارے میں اب بھی موقف نسبتاً نرم ہے، تاہم یہ تنظیم بھی یہی چاہتی ہے کہ کسی طرح لیبیا میں جنگ بندی ممکن ہو اور ایک روڈ میپ پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ اقتدار کی منتقلی یا تقسیم عمل میں لائی جا سکے۔

پس پردہ یا براہِ راست بہت سے ممالک قذافی کے خلاف نیٹو کی فضائی کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں۔ سینیگال کے رہنما عبدالعلی زیلی صحارہ کے پہلے رہنما ہیں جنہوں نے باغیوں کی تحریک کو تسلیم کرنے کے لیےگزشتہ ہفتے باغیوں کے گڑھ بن غازی کا دورہ کیا۔ موریطاینہ کے رہنما محمد عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ قذافی کی رخصتی ناگزیر ہو چکی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM