1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے بیٹے کو وکیل تک رسائی دی جائے، ہیومن رائٹس واچ

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو فوری طور پر وکیل تک رسائی دی جانی چاہیے۔ ان پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔

default

سیف الاسلام قذافی

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے ایک نمائندے فریڈ ابراہامز نے یہ بات لیبیا میں سیف السلام قذافی سے ایک ملاقات کے بعد کہی ہے۔

انہوں نے لیبیا کے شہر زنتان میں اتوار کو معمر قذافی کے بیٹے سے ملاقات کی ہے، جو آدھا گھنٹہ جاری رہی۔ بعد ازاں ابراہامز نے ایک بیان کہا: ’’سیف الاسلام قذافی کا کہنا ہے کہ انہیں اچھی خوراک اور طبی سہولتیں میسر ہیں۔ انہیں دورانِ حراست فراہم کردہ سہولتوں کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ان کی بڑی تشویش اپنے خاندان کے افراد اور وکیل تک رسائی نہ ہونا ہے، جو ان کے مقدمے میں مدد کر سکے۔‘‘

ابراہامز نے مزید کہا کہ سیف السلام کا حق ہے کہ انہیں کارروائی کے حوالے سے واجب حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے لیبیا میں قید آٹھ ہزار دیگر افراد کا حوالہ بھی دیا ہے، جنہیں وکلاء تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام کے خلاف الزامات کی مناسب تفتیش کی جانی چاہیے اور جتنی جلدی ممکن ہو، انہیں ایک غیر جانبدار جج کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی کے مستغیثِ اعلیٰ لوئیس مورینو اوکامپو

Menschenrechte Logo human rights watch

ہیومن راٹس واچ نے آٹھ ہزار دیگر قیدیوں کا حوالہ بھی دیا ہے

نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس بات کے باوجود کہ سیف الاسلام قذافی کو لیبیا میں اپنے خلاف شفاف مقدمے کی ضمانت حاصل نہیں، وہ انہیں دی ہیگ کی عدالت کے حوالے کیے جانے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔

دی ہیگ کی عدالت آئی سی سی نے سیف الاسلام قذافی، ان کے والد معمر القذافی اور لیبیا کے سابق انٹیلیجنس سربراہ عبداللہ السینوسی پر معمر قذافی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

لیبیا کی قومی عبوری کونسل بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ سیف الاسلام کو بین الاقوامی عدالت کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور لیبیا میں ہی ان کے خلاف شفاف کارروائی کی جائے گی۔

لیبیا میں سیف الاسلام کو انیس نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے ایک ماہ قبل ان کے والد کو پکڑنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس