1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے بیٹوں کی قیادت میں عبوری انتظامیہ نا منظور: باغی

لیبیا میں معمر قذافی کے مخالف باغیوں نے آج کہا کہ وہ تنازعے کے حل کے لیے کسی ایسی عبوری انتظامیہ کو قبول نہیں کریں گے، جس کی قیادت قذافی کے بیٹوں کے پاس ہو۔

default

باغیوں نے کہا کہ وہ ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ لیبیا میں باغیوں کی قومی عبوری کونسل کی طرف سے پیر کو یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی ان رپورٹوں کے بعد کہی گئی کہ یہ تجویز معمر قذافی کے دو بیٹوں نے پیش کی ہے۔

ان رپورٹوں کی اشاعت پر اس عبوری کونسل کے ترجمان شمس الدین نے باغیوں کے مرکز بن غازی میں کہا کہ اس تجویز کو قومی کونسل سرے سے رد کرتی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس سے پہلے کہ لیبیا کے تنازعے کے حل کے لیے کوئی سفارتی مذاکرات ممکن ہوں، معمر قذافی اور ان کے بیٹوں کو ملک سے باہر جانا ہو گا۔

Rebellen Libyen gegen Gaddafi in Bengazi

’ایسی عبوری انتظامیہ قبول نہیں جس کی قیادت قذافی کے بیٹوں کے پاس ہو‘

نیویارک ٹائمز نے اتوار کو رات گئے یہ رپورٹ دی تھی کہ قذافی کے کم از کم دو بیٹے یہ تجویز دے رہے ہیں کہ لیبیا میں ایک آئینی جمہوریت کے قیام کے لیے جو عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی، اس میں ان کے والد شامل نہیں ہوں گے۔ اس امریکی اخبار کے مطابق یہ تجویز بنیادی طور پر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کی پیش کردہ ہے۔

لیبیا کے بارے میں دوسری رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ باغی اب اپنی تیل کی صنعت کے لیے مشہور شہر بریقہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ لیبیا کے مشرقی ساحلی علاقے کا یہ شہر عسکری حوالے سے باغیوں کی پیش قدمی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس شہر پر قبضے کے لیے باغیوں کی سرکاری دستوں کے ساتھ جھڑپیں کئی ہفتے پہلے شروع ہوئی تھیں۔ وہاں مغربی جنگی طیاروں کی طرف سے کئی مرتبہ حملے بھی کیے گئے تھے۔

Libyen Rebellen Ras Lanuf

باغی اب اپنی تیل کی صنعت کے لیے مشہور شہر بریقہ میں داخل ہو گئے ہیں

آج پیر کو باغیوں نے اعلان کیا کہ بریقہ اب پھر سے ان کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ اسی دوران طرابلس حکومت کے ایک مندوب اس وقت یورپ کے دورے پر ہیں۔ لیبیا کے نائب وزیر خارجہ العبیدی نے اتوار کو یونانی وزیر اعظم کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ قذافی اس بحران کا حل چاہتے ہیں۔

یونان کے بعد یہ مندوب پہلے ترکی جا رہے ہیں، جس کے بعد وہ مالٹا بھی جائیں گے۔ لیبیا کے بارے میں برسلز سے ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ نیٹو کی کمان میں لیبیا مشن میں شامل امریکی جنگی طیارے اب اگلے محاذ پر نہیں ہوں گے۔ نیٹو ذرائع کے بقول امریکہ آج پیر سے اپنے جنگی طیاروں کو صف اول کی عسکری کارروائیوں سے نکال کر اپنی توجہ زیادہ تر فضائی حملوں میں مدد پر مرکوز کر دے گا۔

نیٹو کے ایک عہدیدار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب لیبیا پر فضائی حملوں میں برطانیہ، فرانس اور دیگر ملکوں کے جنگی طیارے استعمال کیے جائیں گے اور یہ عمل آج پیر کو ہی مکمل ہو جائے گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس