1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے بعد لیبیا کیسا ہو گا، باغیوں کا منصوبہ

معمر قذافی کا اقتدار ختم ہونے پر باغی موجودہ حکومتی نظام کا بیشتر حصہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات باغیوں کے جانب سے قذافی حکومت کے بعد کے لیبیا کے بارے میں ترتیب دیے گئے منصوبے میں سامنے آئی ہے۔

default

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی روزنامہ ’لندن ٹائمز‘ میں پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ لیبیا کے باغیوں کی قومی عبوری کونسل ( این ٹی سی) کے اس منصوبے کی دستاویز ستّر صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے طے کرنے میں انہیں مغربی طاقتوں کی مدد حاصل رہی ہے۔

اس منصوبے کی دستاویز لندن ٹائمز کو دستیاب ہوئی ہے۔ اس میں باغیوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی جانب سے قذافی کو اقتدار سے بے دخل کر پانے کا امکان بہت کم ہے تاہم اندرونی نااتفاقیاں قذافی کو حکومت چھوڑنے پر مجبور کر دیں گی۔

ایسے وقت کے لیے باغیوں نے دس ہزار سے پندرہ ہزار تک نفری کی ’طرابلس ٹاسک فورس‘ تشکیل دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جو دارالحکومت کا کنٹرول سنبھالے گی اور قذافی کے معروف حامیوں کو حراست میں بھی لے گی۔

NATO-Angriff auf Libyen

باغی پندرہ ہزار تک نفری کی ’طرابلس ٹاسک فورس‘ تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں

اس منصوبے کے مطابق تقریباﹰ پانچ ہزار پولیس اہلکار عبوری حکومت کی سکیورٹی فورسز کے لیے بھرتی کیے جائیں گے۔ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ قذافی حکومت کے آٹھ سو موجودہ اہلکار پہلے ہی ان کے ساتھ شامل ہیں۔

اس دستاویز میں قذافی کا اقتدار ختم ہونے کے فوری بعد کے حالات میں ٹیلی مواصلات، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو قابو میں رکھنے کا لائحہ عمل بھی بیان کیا گیا ہے۔

باغیوں نے یہ اندازہ بھی ظاہر کیا ہے کہ قذافی حکومت میں شامل ستّر فیصد اعلیٰ اہلکار نئی حکومت میں شامل ہونا چاہیں گے۔

این ٹی سی نے لندن ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کی تصدیق ہے۔ تاہم انہوں نے اس اخبار سے بعض اہم معلومات شائع نہ کرنے کی بھی درخواست کی، جن کے سامنے آنے پر لیبیا میں جاری آپریشن پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

باغیوں نے یہ منصوبہ اس امید میں ترتیب دیا ہے کہ لیبیا کو عراق جیسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس