1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے برکینا فاسو فرار ہونے کی اطلاعات

خبر رساں ادارے روئٹرز نے فرانس اور نائجر کے فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ لیبیا کی فوج کا ایک بڑا قافلہ ریگستانی علاقے سے گزر کر نائجر جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

معمر قذافی

معمر قذافی

خبر رساں ادارے روئٹرز نے فرانسیسی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی اور سیف الاسلام قذافی بھی اس قافلے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو سو سے ڈھائی سو گاڑیوں پر مشتمل لیبیا کے فوجیوں کے ہمراہ ایک بڑا قافلہ نائیجر میں داخل ہوا ہے۔ اس میں جنوبی لیبیا کی فوج کے افسران بھی موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ قافلہ لیبیا سے الجزائر کے راستے نائیجر میں داخل ہوا ہے اور ممکنہ طور پر اس قافلے کی منزل برکینا فاسو ہے۔ اس سے قبل برکینا فاسو نے معمر قذافی اور ان کے اہل خانہ کو سیاسی پناہ دینے کی پیشکش کی تھی۔

دوسری طرف نائجر کے وزیر خارجہ محمد بازوم نے مذکورہ قافلے میں معمر قذافی یا ان کے بیٹوں کی موجودگی کی تردید کی ہے۔ بازوم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے، اس میں قذافی موجود تھے اور نہ ہی قافلہ اتنا بڑا تھا جس کا پرچار کیا گیا ہے۔

فرانسیسی فوجی ذرائع کے مطابق سیف الاسلام قذافی بھی اس قافلے میں شامل ہو سکتے ہیں

فرانسیسی فوجی ذرائع کے مطابق سیف الاسلام قذافی بھی اس قافلے میں شامل ہو سکتے ہیں

ان اطلاعات کے کئی گھنٹنوں بعد الجزیرہ ٹیلی وژن نے خبر دی کہ باغی فورسز قذافی کے حامی شہر بنی ولید کے قبائلی عمائدین کے ساتھ معاہدہ کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ معاہدہ حتمی طور پر آج دن میں کسی بھی وقت تکمیل تک پہنچ سکتا ہے، جس کے تحت باغیوں کی فوج لڑائی کے بغیر شہر میں داخل ہوسکے گی۔ قذافی کے حامیوں کی طرف سے جن علاقوں میں مزاحمت جاری ہے بنی ولید ان میں سے ایک اہم شہر ہے۔

دارالحکومت طرابلس سے تقریباﹰ ڈیڑھ سو کلومیٹر دور بنی ولید شہر میں قذافی کے حامیوں نے اس سے قبل ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ شہر ورفلہ بربر قبائل کا مضبوط گڑھ ہے جو قذافی کے وفادار تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر فرانس نے معمر قذافی اور لیبیا کی نئی حکومت کے درمیان معاہدہ کرایا ہے۔  دوسری طرف فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کی طرف سے نہ تو لیبیا کے فوجی قافلے کی نائجر پہنچنے کی خبروں کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی معمر قذافی یا ان بیٹے سیف الاسلام کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: حماد کیانی

DW.COM