1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کے اہل خانہ کی تدفين سے قبل مصراتہ پر نيا حملہ

ليبيا کے رہنما معمر قذافی کی فوج نے نيٹو کے فضائی حملے ميں ہلاک ہونے والے قذافی کے بيٹے کی تدفين سے قبل آج پير کو مصراتہ پر ايک نيا حملہ کيا، جہاں کئی ہفتوں سے لڑائی جاری ہے۔

ليبيا کے رہنما قذافی کے گھر کا ايک بيڈ روم نيٹو کے حملے کے بعد

ليبيا کے رہنما قذافی کے گھر کا ايک بيڈ روم نيٹو کے حملے کے بعد

خبر ايجينسی اے ايف پی کے نامہ نگاروں نے ليبيا کے اس تيسرے بڑے شہر ميں آج صبح کافی دير تک بھاری گولہ باری کی آوازيں سنيں۔ قذافی کی فوج کے ٹينکوں نے شہر کے مغربی مضافاتی علاقوں ميں پيش قدمی کی۔

ميڈيکل اسٹاف کا کہنا ہے کہ آج کی لڑائی ميں کم از کم چار افراد ہلاک اور تقريباً 30 زخمی ہو گئے۔ کل شب ہونے والی جھڑپوں ميں چھ افراد ہلاک اور کئی درجن زخمی ہوئے تھے۔ ايک باغی کمانڈر نے اے ايف پی کو بتايا کہ سرکاری فوج کے ٹينکوں کو آگے بڑھنے سے روک ديا گيا ہے۔

ليبيا کے شہری نيٹو کے حملے ميں ہلاک ہونے والے قذافی کے بيٹے کی تصوير والے پوسٹر صحافيوں کو دکھا رہے ہيں

ليبيا کے شہری نيٹو کے حملے ميں ہلاک ہونے والے قذافی کے بيٹے کی تصوير والے پوسٹر صحافيوں کو دکھا رہے ہيں

اے ايف پی کے نمائندے کے مطابق آج صبح نيٹو کے ايک طيارے نے دوگھنٹوں سے زيادہ تک مصراتہ پر پروازکی، ليکن کوئی فضائی حملہ نہيں ہوا۔ ايک شہری نے کہا: ’’نيٹو کو ہماری مدد کرنا چاہيے۔ آخر وہ انتظار کيوں کر رہے ہيں۔‘‘

چھ ہفتوں سے زيادہ عرصے سے جاری مصراتہ جنگ ميں پچھلے دنوں کے برعکس يہ بات کہنے والے اس شخص نے اپنا نام نہيں بتايا، جسے اس بات کی علامت سمجھا جا سکتا ہے کہ قذافی کی فوج کے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لينے کا امکان موجود ہے۔

مغربی ليبيا ميں باغيوں کا آخری گڑھ مصراتہ قذافی کی حامی فوج کے گھيرے ميں ہے اور اس کا انحصار مکمل طور پر سمندر کے راستے آنے والی اشياء پر ہے۔

ليبيا ميں مظاہرين قذافی کے فيملی کمپاؤنڈ کے سامنے امريکہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہيں۔

ليبيا ميں مظاہرين قذافی کے فيملی کمپاؤنڈ کے سامنے امريکہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہيں۔

اُدھر ليبيا کے دارالحکومت طرابلس ميں سہ پہر کے وقت قذافی کے دوسرے سب سے کم عمربيٹے سيف العرب اور تين پوتے پوتيوں کی تدفين کی تيارياں جاری تھيں۔ کل صبح حکومتی ترجمان موسیٰ ابراہيم نے اطلاع دی تھی کہ نيٹو کے فضائی حملے ميں قذافی کا 29 سالہ بيٹا اور تين پوتے پوتياں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان ميں سے ايک دو سال کا لڑکا، ايک دو سالہ لڑکی اور ايک چار ماہ کی بچی تھی۔

طرابلس ميں مظاہرين نے احتجاج کے طور پر برطانوی اور اطالوی سفارتکاروں کے خالی مکانات کو آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے بعد برطانيہ نے ليبيا کے سفير کو ملک بدر کرديا اور ترکی نے ليبيا ميں اپنا سفارتخانہ عارضی طور پر بند کرديا ہے۔ اطالوی حکومت کے نيٹو کی قيادت ميں فضائی حملوں ميں شرکت کرنے کے فيصلے کے بعد، قذافی نے ’جنگ اٹلی تک پہنچا دينے‘ کی دھمکی دی ہے۔ اس کے بعد سے اٹلی ميں سکيورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔

چين نے ايک بار پھر ليبيا ميں جنگ بند کرنے اور بات چيت کے ذريعے سياسی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کيا ہے۔ چينی حکومت نے کہا ہے کہ چين نے شروع ہی سے ايسے تمام اقدامات کی مخالفت کی ہے جن ميں اقوام متحدہ کی قرارداد کی حدود سے تجاوز کيا گيا ہو۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM