1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’قذافی کی ہلاکت کی جامع تحقیقات ہونی چاہییں‘‘

لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کی ہلاکت میں ممکنہ طور پر جنگی جرم کے پہلو کے پیش نظر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں نے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

default

قذافی کی ہلاکت سے متعلق منظر عام پر آنے والے ویڈیوز میں پہلے انہیں زخمی حالت میں زندہ اور بعد میں مردہ حالت میں دکھایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان روپرٹ کول ول کے بقول عین ممکن ہے کہ قذافی کو زندہ حالت میں پکڑنے کے بعد قتل کیا گیا ہو تاہم یہ بات ثابت کرنے کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے قذافی کی ہلاکت والی ویڈیوز کو تکلیف دہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کے جنیوا کنونشن کے تحت مسلح تنازعے کے دوران زندہ حالت میں پکڑے جانے والوں پر تشدد، ان کی تذلیل یا ہلاکت کی ممانعت ہے۔

کول ول کے بقول اگرچہ لیبیا میں خانہ جنگی جاری تھی مگر کسی بھی صورت میں زندہ شخص کو گرفتار کرنے کے بعد ہلاک کر دینا ایک سنگین جرم ہے۔ لیبیا کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم محمود جبریل کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے بعد قذافی کو ہسپتال لایا جا رہا تھا کہ اسی دوران ’فائرنگ کے تبادلے‘ میں اُن کی ہلاکت واقع ہو گئی۔ روئٹرز نے عبوری حکومت کے چند دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنگجوؤں نے قذافی کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔

Libyen Jubel über Gaddafis Tod

لیبیا میں قذافی مخالفین نے ان کی ہلاکت پر جشن منایا

لیبیا میں موجود ہیومن رائٹس واچ سے وابستہ  Peter Bouckaert نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں قذافی کی ہلاکت فائرنگ کے تبادلے میں نہیں ہوئی۔ ’’کیا قذافی زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوا یا پھر اس کے سر پر ہلاکت خیز چوٹ لگی؟  ہم اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، یہ نئے لیبیا پر ایک الزام ہے کہ قذافی مشکوک حالت میں ہلاک ہوا۔‘‘ ان کے بقول قذافی کے آبائی شہر سِرت پر عبوری حکومت کے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد قریب 95 افراد کی لاشیں ملیں، جن میں سے کئی افراد کے سروں میں گولیاں ماری گئی ہیں۔

دریں اثناء قذافی کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ’شہید‘ کے جسد کی باعزت تدفین کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب ملک شام کے ایک ٹیلی وژن چینل سے جاری کیے گئے ایک بیان میں عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قذافی، ان کے بیٹے معتصم اور دیگر ساتھیوں کی نعشوں کی باعزت تدفین کو یقینی بنایا جائے۔

جس انداز میں قذافی کی ہلاکت ہوئی ہے، اس کے بعد لیبیا میں سیاسی تقسیم اور تناؤ بڑھنے کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ روئٹرز کے ایک تبصرے کے مطابق جو قوتیں قذافی کے خلاف نفرت کے یکساں خیالات کے سبب متحد تھیں، خدشہ ہے کہ ان کی ہلاکت کے بعد انتشار اور اختلاف کا شکار نہ ہو جائیں اور یوں لیبیا بحرانی صورتحال میں گھِرا رہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM