1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کی ہلاکت کیسے ہوئی: ’تفتیش ہو گی پوسٹ مارٹم نہیں‘

لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے سابق رہنما معمر قذافی کی ہلاکت کے حالات پر تفتیش کا اعلان کیا ہے۔ ان کی لاش مصراتہ میں رکھی گئی ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم کو خارج ازمکان قرار دے دیا گیا ہے۔

default

لیبیا کے عبوری رہنما مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ قذافی کی ہلاکت کن حالات میں ہوئی، اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ ان کی جانب سے یہ اعلان متعدد ممالک اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطالبات کے بعد سامنے آیا ہے۔

لیبیا کے شہر مصراتہ میں موجود عسکری کمانڈروں نے کہا ہے کہ سابق رہنما معمر قذافی کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جائے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عسکری کونسل کے ترجمان فتحی البشاگا کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم نہیں ہوگا، نہ ہی آج اور نہ ہی کسی اور دِن۔

اے ایف پی کے مطابق مصراتہ میں دو مزید ملٹری کمانڈروں نے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔ البشاگا کا یہ بھی کہنا ہے کہ قذافی کی لاش دیکھنے کے لیے قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل کی مصراتہ آمد متوقع نہیں ہے۔ مصراتہ میں قذافی کی لاش سبزی مارکیٹ کے ایک فریزر میں رکھی گئی ہے، جسے ہفتے کو متعدد لوگ دیکھنے کے لیے پہنچتے رہے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا کہ قذافی کی ہلاکت کن حالات میں ہوئی، اس کا پتہ چلانے کے لیے تحقیقات کی جائیں۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوی پلائی کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ سامنے آنے والی فوٹیج کے مطابق قذافی اپنی گرفتاری کے وقت ابھی زندہ تھے۔

دوسری جانب لیبیا کے وزیر اعظم محمود جبریل نے آٹھ ماہ میں انتخابات کا خیال ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو آٹھ ماہ کے اندر قومی کونسل کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے کا موقع ملنا چاہے۔

بعدازاں یہ کونسل نیا مسودہ قانون بنائے گی اور عبوری حکومت تشکیل دیے گی۔ اردن میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر جبریل نے کہا کہ قذافی کی ہلاکت کے بعد لیبیا کی سڑکوں سے ہتھیار ہٹانے اور استحکام پر توجہ دی جا رہی ہے۔

Mustafa Abdul Jalil Übergangsregierung Libyen

مصطفیٰ عبدالجلیل

انہوں نے کہا: ’’این ٹی سی آئندہ چند دِنوں میں کیا لائحہ عمل پیش کرتی ہے، یہ اور دیگر باتوں کا کا انحصار لیبیا کے عوام پر ہے کہ وہ ماضی اور مستقبل میں کس حد تک فرق کر پاتے ہیں۔‘‘

جبریل نے کہا کہ اس حوالے سے ان کی نگاہیں عوام پر ہیں تاکہ وہ دیکھیں اور اس ذہنی کرب کو یاد کریں، جس سے گزشتہ بیالیس سال سے وہ گزرتے آ رہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیبیا پہلے ہی اپنا باسٹھ فیصد تیل استعمال کر چکا ہے اور اسے آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ ڈھونڈنے کے لیے وژن کی ضرورت ہے۔ جبریل نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی ہاتھ آئے مختصر موقع سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبررساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس