1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کی فوج کے خلاف ڈرون استعمال کیے جائیں گے، امریکہ

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے قذافی کی فوج کے خلاف ڈرون طیاروں کے ذریعے میزائل فائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ کلنٹن نے لیبیا کی صورت حال کو کوسوو کے مشابہہ قرار دیا ہے۔

default

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے جمعرات کو لیبیا میں باغیوں کی مزاحمت اور قذافی کی حامی فوج کے خلاف بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کے ذریعے میزائل داغنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی کوششوں میں یہ معمولی سی امریکی معاونت ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے مطابق لیبیا میں انسانی المیے کے تناظر میں ڈرون کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گیٹس کا مزید کہنا تھا کہ لیبیا کی صورت حال میں ڈرون کا استعمال انتہائی فائدہ مند ہو گا اور طرابلس حکومت کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں یہ مددگار ہوں گے۔ امریکی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈرون کے ذریعے ٹینک شکن میزائل داغنے سے قذافی کی فوج کے ٹینکوں کی حرکت روکی جا سکے گی۔ امریکہ کے وائس چیئرمین برائے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل جیمز کارٹ رائٹ نے ڈرون طیاروں کی فراہمی کی تصدیق کردی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے لیبیا میں نیٹو کے فوجی مشن کو سن 1999 میں کوسووو پر جاری رکھی گئی سابق یوگوسلاویہ کے صدر سلابوڈان میلاسووچ کے فوجی ایکشن کو ختم کرنے والی نیٹو فوجی مہم کے ہم پلہ قرار دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں بھی امریکہ اور اس کے اتحادی یورپ میں ایسی ہی ایک کارروائی میں شریک ہو چکے ہیں۔ ہلیری کلنٹن نے مصراتہ پر قذافی کی حامی فوج کی مسلح کارروائیوں کو غیر انسانی قرار دیا۔

مصراتہ مغربی لیبیا میں باغیوں کے قبضے میں واحد بڑا شہر ہے جبکہ لیبیا کا تیسرا بڑا شہر بھی ہے۔ اس شہر کا طرابلس کی فوج نے کئی دنوں سے محاصر کر رکھا ہے لیکن اسے باغیوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

Libyen zerstörter Panzer an der Straße nach Adschdabija

اجدابیا میں قذافی کی حامی فوج کا تباہ شدہ ٹینک

اس دوران لیبیا کے حکام نے عام شہریوں کو مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دینے کا بھی آغاز کردیا ہے۔ طرابلس حکام کے مطابق یہ عمل نیٹو کی جانب سے ممکنہ فوجی مداخلت کے حوالے سے ناگزیر ہو گیا ہے۔ لیبیا کی حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم کے مطابق اگر نیٹو کی افواج مصراتہ یا کسی اور شہر تک پہنچیں تو ان کو ایک جہنم کا سامنا ہو گا۔ ابراہیم کا مزید کہنا تھا کہ لیبیا ان فوجیوں کے لیے ایک جلتا ہوا تنور ہو گا اور غیر ملکی فوج کے سامنے عراق سے دس گنا زیادہ خراب صورتحال ہو گی۔ قذافی حکومت کے ترجمان نے عام شہریوں کو مسلح کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ باغیوں کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے البتہ نیٹو افواج کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گے۔

ادھر لیبیا میں مقید خاتون امریکی صحافی Clare Morgana Gillis کو طرابلس حکام نے یہ سہولت فراہم کی وہ اپنے والدین سے ٹیلیفون پر بات کر سکے۔ امریکی صحافی کا تعلق بوسٹن شہر کے گلوبل پوسٹ سے ہے۔ صحافی کے مطابق ان کے ساتھ جیل میں جیمز فولی اور ہسپانوی فوٹو گرافر مانو برابوبھی مقید ہیں۔ خاتون نے اپنے والدین کو اپنے بخیریت ہونے کی بھی اطلاع دی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس