1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کی افواج بریقہ پہنچ گئیں

لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن پر اعلان کیا گیا ہے کہ معمر قذافی کی وفادار افواج نے باغیوں سے ملک کے شمالی علاقے بریقہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تاہم اس علاقے میں کوئی فضائی حملہ نہیں دیکھا گیا۔

default

قذاقی کی وفادار افواج نے اتوار کو بریقہ کی جانب پیش قدمی کی۔ قبل ازیں وہاں شدید شیلنگ ہوئی جبکہ فوج نے بریقہ کے بعض نواحی علاقوں کا قبضہ حاصل کرنے کا اعلان بھی کیا۔

بعد ازاں لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن پر عسکری ذرائع نے بریقہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنے ایک نمائندے کے حوالے سے بتایا کہ شدید شیلنگ کے نتیجے میں درجنوں باغیوں کو بریقہ کا علاقہ چھوڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

باغیوں نے یہ علاقہ چھوڑ کر بن غازی کا رُخ کر لیا ہے، جس پر تاحال قذافی مخالف فورسز کا کنٹرول برقرار ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق باغی ابھی تک ملک کے مغرب میں کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، جن میں لیبیا کا تیسرا بڑا شہر Misrata بھی شامل ہے۔

لیبیا میں نو فلائی زون کے نفاذ کے لیے عالمی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ عرب لیگ کے اجلاس میں ہفتہ کو اس کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین تاحال اس کے حق میں نہیں جبکہ امریکی ردعمل کو سرد مہری سے عبارت قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ اور فرانس اس اقدام کے حامی ہیں۔

Libyen Fernsehrede von Muammar Gaddafi in Tripolis

لیبیا کے رہنما معمر قذافی

دوسری جانب دنیا کی آٹھ صنعتی ریاستوں کےگروپ جی ایٹ کا دو روزہ اجلاس پیر سے پیرس میں شروع ہو رہا ہے۔ اس دوران لیبیا کے بحران پر عالمی طاقتیں کسی اتفاق رائے پر پہنچنے کی کوششیں کریں گی۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی اور جاپان کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ خیال رہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے چین ہی ایسا ملک ہے، جو اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔

اُدھر دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے کمانڈر Abu Yahia al-Libi نے ایک ویڈیو پیغام میں لیبیا کے عوام پر زور دیا ہے کہ معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹا کر ملک میں اسلامی حکومت قائم کی جائے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ تیونس اور مصر میں حکومتیں گرنے کے بعد اب باری قذافی کے زوال کی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس