1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی کا دور ختم، امریکہ نیا پارٹنر: باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے پیر کے روز لیبیا کے رہنما معمر قذافی پر زور دیا کہ اب وہ فوری طور پر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ انہوں نے لیبیا کے باغیوں کو بھی مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ابھی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔

default

امریکی صدر نے کہا، ’یہ بات واضح ہے کہ قذافی دور کا خاتمہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ لیبیا کا مستقبل اب عوام کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘

امریکی صدر باراک اوباما نے بتایا کہ انہوں نے لیبیا میں قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد کی صورتحال اور مغربی منصوبہ بندی پر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے بھی بات چیت کی ہے۔ اس حوالے سے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن بھی جلد ہی ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کریں گی۔

صدر اوباما، جو لیبیا کی صورتحال سے ’درست انداز سے نہ نمٹنے‘ کے حوالے سے امریکی قانون سازوں کی تنقید کا شکار ہے، نے وعدہ کیا کہ واشنگٹن لیبیا کا ’دوست اور پارٹنر‘ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کے سامنے بہت بڑے چیلینجز ہیں اور ایسے وقت میں واشنگٹن انتظامیہ لیبیا کا ساتھ دےگی۔

Flash-Galerie Libyen Tripolis unter Kontrolle der Aufständischen Freude in Bengasi

باغی طرابلس کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول کا دعوی کر رہے ہیں

ایک طرف جہاں باغی، معمر قذافی کے سب سے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے شہر طرابلس کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول کے دعوے کر رہے ہیں، امریکی صدر نے کہا کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے اور اب بھی قذافی کے حامی موجود ہیں، جو لیبیا کو خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے قذافی کے حامی سکیورٹی فورسز سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک کی خاطر ہتھیار پھینک دیں اور جنگ کا خاتمہ کر دیں۔

’’یہ واضح ہے کہ قذافی دور حکومت ختم ہو چکا ہے۔ ان کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ مستقبل کے خون خرابے سے اجتناب کریں اور اقتدار لیبیا کی عوام کے حوالے کر دیں۔‘‘

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے لیبیا کے موضوع پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں افریقی یونین، عرب لیگ، اسلامی ممالک کی تنظیم اور یورپی یونین کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

بان کی مون نے کہا کہ طرابلس میں دکھائی دینے والے مناظر لیبیا کے عوام میں جمہوریت اور آزادی کے لیے موجود جرات اور ہمت کا پتا دیتے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM