1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی پر دباؤ کے باوجود لیبیا میں باغیوں کی پسپائی

لیبیا میں قذافی نواز فورسز نے حملے تیز کرتے ہوئے باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ لندن میں لیبیا کے تنازعے پر ہونے والی کانفرنس میں عالمی طاقتوں نے معمر قذافی پر اقتدار سے الگ ہونے کے لیے دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔

default

دنیا بھر سے چالیس حکومتوں اور عالمی اداروں کی لندن کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ شہریوں پر تشدد کے خاتمے تک لیبیا میں نیٹو کی سربراہی میں قذافی نواز فورسز کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی قرارداد کو یقینی بنانا ہے۔

اس کانفرنس میں بیس ممالک اور تنظیموں پر مشتمل ایک رابطہ گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جو لیبیا میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔ لندن کانفرنس کے بعد امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا، ’ہم سب کو قذافی کی حکومت پر دباؤ بنائے رکھنے اور اسے تنہا رکھنے کے لیے دیگر ذرائع بھی استعمال کرنے ہوں گے۔‘

امریکہ، برطانیہ اور قطر نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ قذافی اور ان کے خاندان کو خون خرابہ جلد از جلد روکنے کی صورت میں جلاوطن ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

فرانس اور امریکہ نے باغیوں کو مسلح کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے این بی سی ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں بتایا کہ وہ پہلے ہی لیبیا کی اپوزیشن کو مواصلاتی آلات، طبی سامان اور ٹرانسپورٹیشن کی سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کر چکے ہیں، تاہم ملٹری ہارڈویئر ایسی امداد کا حصہ نہیں ہوں گے۔

ادھر لیبیا میں قذافی نواز فورسز اور باغیوں کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومتی فورسز نے باغیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے سرت سے ایک سو بیس کلومیٹر شمال میں چھوٹے سے قصبے Nawfaliyah پر قبضہ کر لیا ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بن جواد کے نواح میں مزید پچیس کلومیٹر پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ اٹھائیس سالہ باغی اشراف محمد نے فرنٹ لائن پر موجود روئٹرز کے ایک نمائندے کو بتایا، ’قذافی کے لوگوں نے ہم پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔‘

Libyen Krieg Gaddafi NATO Konferenz London Flash-Galerie

لندن کانفرنس کے شرکا

اُدھر باغیوں اور حکومتی فورسز دونوں نے ہی مغربی شہر مصراتہ کے بعض علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ قذافی کی فورسز نے اس علاقے کا ایک مہینے سے زائد عرصےسے محاصرہ کر رکھا تھا۔

سرکاری ٹیلی وژن پر کہا گیا ہے کہ مصراتہ میں ہزاروں افراد نے قذافی کی حمایت میں ریلی نکالی۔ ٹیلی وژن نے کہا کہ شہر کو ’مسلح دہشت گردوں‘ سے پاک کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس