1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی نواز فورسز نے باغیوں کو مزید پیچھے دھکیل دیا

لیبیا میں معمر قذافی کی حامی فورسز نے باغیوں پر فضائی بمباری کرتے ہوئے انہیں مزید پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تاہم عالمی برادری کی جانب سے وہاں کے لیے نوفلائی زون کا فیصلہ تاحال نہیں کیا جا سکا۔

default

معمر قذافی کی فورسز گزشتہ ایک ہفتے میں باغیوں کو ان کے زیرقبضہ علاقوں میں ایک سو میل پیچھے دھکیل چکی ہیں۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اب حقیقی امکان پیدا ہو گیا کہ جب تک عالمی برادری اس تنازعے پر کسی اتفاق رائے پر پہنچے گی، اس وقت تک قذافی کی فورسز یہ جنگ ہی جیت جائیں گی۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس میں لیبیا میں باغیوں کی مدد کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ پیرس میں صنعتی ممالک کے گروپ جی ایٹ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا نتیجہ بھی ایسا ہی رہا ہے۔

پیر کو لیبیا کی فورسز نے توپخانے اور ٹینکوں سے حملہ کرتے ہوئے دارالحکومت طرابلس کے جنوبی علاقے زوارہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اب باغیوں کے زیرقبضہ ملک کے مشرقی علاقے دھیرے دھیرے قذافی کی حامی افواج کے ہاتھ آتے جا رہے ہیں۔

اتوار کو انہوں نے پہلے ہی بریقہ سے باغیوں کو نکال باہر کیا تھا جبکہ پیر کو اجدابیا میں طیاروں نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں باغی مزید پیچھے چلے گئے ہیں۔ یہ علاقہ باغیوں کے زیر انتظام واحد اہم شہر بن غازی اور بریقہ کے درمیان ہے۔

اجدابیا سے بن غازی اور توبروک کا راستہ نکلتا ہے، جس سے قذافی نواز فورسز کو تین لاکھ آبادی والے ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی کے گرد گھیرا ڈالنے کا موقع مل سکتا ہے۔

جنیوا میں لیبیا کی لیگ برائے انسانی حقوق کے صدر Soliman Bouchuiguir کا کہنا ہے کہ قذافی کی فورسز بن غازی میں گھس گئیں تو بہت خون خرابہ ہو گا۔ انہوں نے کہا، ’یہ ایسا قتل عام ہو گا، جو روانڈا میں دیکھا گیا تھا۔‘

Obama in Indonesien Jakarta NO FLASH

امریکی صدر باراک اوباما

اُدھر امریکہ کے دو بااثر سینیٹروں نے ایک قرارداد پیش کی ہے، جس میں صدر اوباما سے کہا گیا ہے کہ وہ معمر قذافی کے خلاف کھڑی اپوزیشن قوتوں کو تسلیم کریں۔ انہوں نے باغیوں کے تحفظ کے لیے لیبیا میں مجوزہ نوفلائی زون کی حمایت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یہ قرارداد سینیٹر جان مکین اور سینیٹر جوزف لیبرمان نے پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس کی طرح امریکہ کو بھی لیبیا کے باغیوں کی کونسل کو قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔ فرانس لیبیا کی عبوری قومی کونسل کو تسلیم کرنے والا واحد ملک ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس