1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی فورسز کی مزید بمباری، کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام

قذافی کی حامی فورسز نے مصراتہ شہر پر راکٹوں کی بارش کر دی ہے۔ ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم نے قذافی کی حامی فورسز پر کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

default

قذافی کی حامی فوج کا جلتا ٹینک

باغیوں کے ایک ترجمان کے مطابق قذافی فورسز نے مسلسل تیسرے دن بھی مغربی بندرگاہی شہر مصراتہ پر حملے جاری رکھے ہیں۔ قذافی کی حامی فورسز گزشتہ کئی روز سے اس شہر کا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

باغیوں کے ترجمان عبدالباسط نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہفتے کی صبح قذافی کی حامی فورسز نے کم از کم ایک سو راکٹ فائر کیے ہیں۔ یہ راکٹ روسی ساختہ اور ان کا نام گراڈ ہے۔ ترجمان کے مطابق ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

Libyen Aufständische bei Brega

باغی فوج کا قافلہ

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکومت کی حامی افواج پر مصراتہ میں کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کلسٹر بموں کے استعمال پر 100 ممالک میں پابندی عائد ہے۔ اس انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق کلسٹر بموں کا استعمال باغیوں کے زیر کنٹرول رہائشی علاقوں میں کیا گیا ہے۔ لیبیا حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ طرابلس سے حکومتی ترجمان موسیٰ ابراہیم کا ایک بار پھر کہنا تھا کہ ان کے ملک کی فوج شمالی افریقہ میں متحرک القاعدہ کے مسلح گروہوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔

اس دوران بین الاقوامی ریڈ کراس تنظیم کی ایک ٹیم باغیوں کے زیر کنٹرول شہر مصراتہ پہنچ گئی ہے۔ یہ تنظیم شہر کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لینے پہنچی ہے۔ ریڈ کراس تنظیم کے وفد کی مصراتہ پہنچنے کی طرابلس حکام نے بھی تصدیق کی ہے۔ ریڈکراس نے ایک ہفتہ قبل طرابلس میں اپنا دفتر کھولنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ مصراتہ کے شہریوں کے لیے امدادی سامان سے لدا ایک بحری جہاز بھی چند دن قبل شہر کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو چکا ہے۔

Libyen Rebellen Feuer

لیبیا کے باغیوں کی جانب سے داغا گیا میزائل

جرمن میگزین شپیگل کی ایک رپورٹ کے مطابق برلن حکومت نے لیبیا کی حکومت کے چھ ارب ڈالر کے فنڈز کو منجمد کردیا ہے۔ اس اثنا میں جرمن وزیر اقتصادیات Rainer Bruederle نے ایک خط میں یورپی اقوام کو مشورہ دیا ہےکہ معمر قذافی کے تمام اثاثہ جات کو منجمد کر کے اقوام متحدہ کے حوالے کردیا جائے تا کہ اِن اربوں ڈالر کو عالمی ادارہ، لیبیا کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت استعمال کر سکے۔ جرمن وزیر اقتصادیات نے تمام یورپی اقوام کو ایک ساتھ اس مناسبت سے عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے جمعہ کے روز یہ بات تسلیم کی ہے کہ لیبیا کے حوالے سے صورتحال میں تعطل آگیا ہے، تاہم انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ فضائی حملوں کا بالآخر نتیجہ معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں نکلے گا۔

جمعہ کے روز روس کے وزیر خارجہ سرگئی لوروف نے خبردار کیا کہ لیبیا میں طاقت کاحد سے زیادہ استعمال خطرناک ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ اس سے پہلے افریقی یونین کی طرف سے بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔

رپورٹ:عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس