1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی دور کے کئی برس بعد بھی طرابلس جنگ اور امن کے بیچ میں

لیبیا میں ایک خونریز عوامی بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کے اقتدار سے علیحدہ کیے جانے اور اس ڈکٹیٹر کی موت کے پانچ سال بعد بھی لیبیا کا دارالحکومت طرابلس ابھی تک جنگ اور امن کے بیچ کسی جگہ رکا ہوا ہے۔

Libyen Bürgerkrieg

خانہ جنگی کی صورت میں لیبیا کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بے تحاشا خونریزی اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا

اس موضوع پر اس شمالی افریقی ملک کے دارالحکومت سے نیوز ایجنسی روئٹرز نے بدھ نو مارچ کے روز اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں لکھا ہے کہ طرابلس ہے تو ایک شہر لیکن اس کی حالت باقی ماندہ لیبیا سے مختلف نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ طرابلس بھی پورے لیبیا ہی کی ایک تصویر پیش کرتا ہے: کسی جگہ معمول کی زندگی اور کسی جگہ خونریزی، انتشار اور بالکل غیر متوقع حالات۔

DW.COM

وہ مسلح ملیشیا گروہ جنہیں اس شہر پر کنٹرول حاصل ہے، ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ طرابلس میں دن کے وقت اگر تمام اہم شاہراہوں پر یہی مسلح جنگجو مختلف چیک پوائنٹس کی نگرانی کرتے نظر آتے ہیں تو شہر کے کئی حصے ایسے بھی ہیں، جہاں رات کے وقت بھی مسلح ملیشیا دستے عسکری مشقوں کے ذریعے خود کو مستقبل کے کسی بھی طرح کے حالات کے لیے تیار کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

طرابلس لیبیا کا وہی شہر ہے، جہاں اقوام متحدہ کی ثالثی میں بیرون ملک مذاکرات کے نتیجے میں نامزد کی گئی وہ نئی متحدہ قومی حکومت اپنے قدم جمانا چاہتی ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے ممکن ہی نہیں ہو سکی تھی۔

لیکن اس متحدہ قومی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے قیام سے متعلق معاہدے کی دستاویز پر لیبیا کے تنازعے کے فریقین کے دستخطوں کے دو ماہ بعد بھی اس کے لیے اصولی حمایت میں دو ماہ پہلے کے مقابلے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس حوالے سے روئٹرز نے طرابلس میں مقامی باشندوں، اعلیٰ حکام اور مختلف حریف گروپوں اور دھڑوں کے نمائندوں کے ساتھ جو بہت سے انٹرویو کیے، ان میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ متحدہ قومی حکومت کی کامیابی کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

لیبیا میں آج کی صورت حال کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ طرابلس میں جو سخت گیر عناصر موجود ہیں، وہ خود کو ملک میں اس عوامی بغاوت کا اصل محافظ سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں عشروں سے برسراقتدار معمر قذافی کی حکومت ختم ہوئی تھی۔ دوسری طرف وہ سابقہ متوازی حکومت جس کو ملک کے مشرق میں کنٹرول حاصل رہا، یہ دعوے کرتی ہے کہ وہ ملک کو اسلام پسندوں کی عسکریت پسندی سے بچانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

لیبیا میں ابھی بھی اگر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ملکی حکومت اور دو ماہ پہلے تک اس کی جنگی مخالف ملیشیا قوتوں کے لیے ان کی اپنی اپنی صفوں میں کافی زیادہ حمایت پائی جاتی ہے تو کئی حلقے ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا کردار مبینہ طور پر غیرجانبدار نہیں رہا۔

طرابلس کے نواح میں رہنے والے ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر عبدالکریم صادق بھی بظاہر اس شہر پر قابض سخت گیر قوتوں کے حامی اور عالمی ادارے کی کوششوں کے خلاف شکایتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے روئٹرز کو بتایا، ’’اقوام متحدہ نے اس تنازعے اور امن کوششوں کے لیے کسی ثالث کا کردار بہرحال ادا نہیں کیا۔ اس ادارے کی سوچ واضح طور پر مشرقی لیبیا میں طاقت کی حامل قوتوں کے حق میں تھی۔‘‘ اقوام متحدہ کا موقف یقینی طور پر اس سوچ کے عین برعکس ہے۔

لیبیا پورے کا پورا ہی گزشتہ کئی برسوں سے خونریزی، بدامنی اور انتشار کی لپیٹ میں ہے۔ طرابلس پر قریب دو سال سے مختلف مسلح گروپوں کے اس اتحاد کا قبضہ ہے، جس کا نام Libya Dawn ہے۔ اب قیام امن کے حوالے سے یہی اتحاد اس لیے خود ایک مسئلہ بن گیا ہے کہ اس میں تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔ اس میں شامل بڑے عسکری گروپوں نے کہا ہے کہ وہ نئی متحدہ قومی حکومت کو تحفظ فراہم کریں گے۔ لیکن اس اتحاد سے اختلافات کے باعث علیحدگی اختیار کر لینے والے متعدد چھوٹے چھوٹے دھڑوں سے متعلق کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

یہ عوامل بھی ان حالات کا حصہ ہیں کہ طرابلس اور طرابلس کی طرح پورا لیبیا بھی جنگ اور امن کے بیچ کہیں پھنس کر رہ گیا ہے اور یہ صورت حال بظاہر محض چند دنوں یا ہفتوں میں تبدیل یا بہتر ہوتی نظر نہیں آتی۔