1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی حکومت کا 95 فیصد تک خاتمہ ہوچکا ہے،باغیوں کا دعویٰ

باغیوں کی طرف سے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قذافی اور اس کی حامی فورسز لیبیا کے 95 فیصد رقبے سے اپنا کنٹرول کھو چکے ہیں۔

default

باغیوں کی قومی عبوری کونسل کی ملٹری کمیٹی کے ترجمان کرنل عبداللہ ابو افرا نے الجزیرہ ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ  قذافی حکومت کا 95 فیصد تک خاتمہ ہوچکا ہے۔

دوسری طرف معمر قذافی کی حامی فورسز کی طرف سے طرابلس میں جوابی حملہ کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق باب العزیزیہ کمپلکس کے قریب بھاری ہھتیاروں کی شدید فائرنگ کی آوازوں کے علاوہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ اطلاعات کے مطابق یہ لڑائی قریبی علاقے ابوسلیم تک پھیل گئی ہے۔

قبل ازیں معمر قذافی نے آج ایک نامعلوم مقام سے اپنی ایک نشری تقریر میں باغیوں کو ایک طویل جنگ کی دھمکی دی ہے۔ قذافی کے مطابق اُنہوں نے اپنا حکومتی کمپلیکس باب العزیزیہ ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت چھوڑا ہے۔

معمر قذافی کی حامی فورسز کی طرف سے طرابلس میں جوابی حملہ کیا گیا ہے

معمر قذافی کی حامی فورسز کی طرف سے طرابلس میں جوابی حملہ کیا گیا ہے

اپنے آڈیو پیغام میں قذافی کا کہنا تھا کہ وہ طرابلس میں ہی موجود ہیں اور لوگوں سے مل جل رہے ہیں۔ قذافی کے مطابق عوام کو اس بات کا کوئی شبہ نہیں کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔ معمر قذافی نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’’میں قبائل سے درخواست کرتا ہوں، میں طرابلس کے رہائشی نوجوانوں اور بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ باہر نکلیں اور شہر کی گلیوں کو غداروں اور چوہوں سے پاک کردیں۔‘‘

دوسری طرف باغیوں کی عبوری قومی کونسل کے سربراہ محمود جبریل نے لیبیا کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو جائیں اور ملک کی تعمیر نو پر اپنی توجہ مرکوز کر دیں۔

باغیوں کے مطابق طرابلس پر قبضے کے دوران 400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔ شہر کے کچھ حصوں میں لڑائی بدستور جاری ہے۔ باغیوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ قذافی کے آبائی شہر سرت سے قذافی کے حامی دستوں نے مصراتہ پر سکڈ میزائل فائر کیے ہیں۔

ادھر لیبیا کے باغی رہنما محمود جبریل آج فرانس کے صدر نکولا سارکوزی کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ جبریل کا کہنا ہے کہ رمضان کے اختتام سے قبل سرکاری ملازموں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 2.4 بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM