1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی حکومت، خاتمے کے قريب تر

يبيا ميں معمر قذافی کی حکومت اپنے خاتمے کے بالکل قريب پہنچ چکی دکھائی ديتی ہے۔ باغی، طرابلس کے بڑے حصے پر قبضہ کر چکے ہيں۔ ڈوئچے ويلے کے تبصرہ نگار رائنر زولش کے مطابق يہ ايک اچھی خبر ہے۔

ليبيا کے باغی طرابلس ميں قذافی کی ايک تصوير ہٹا رہے ہيں

ليبيا کے باغی طرابلس ميں قذافی کی ايک تصوير ہٹا رہے ہيں

رائنر زولش کے مطابق معمر القذافی کی حکومت کا قريب تر آتا ہوا خاتمہ اپنے تمام تر ناقابل اندازہ نتائج کے باوجود ايک اچھی خبر ہے کيونکہ اس طرح ايک 42 سالہ آمرانہ دور ختم ہو رہا ہے۔ ليبيا کے عوام کو آزادی اور خود اپنی مرضی سے فيصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ہمت اور قربانيوں کے ساتھ اس کے ليے جنگ کی ہے۔

مغربی ممالک کی فوجی مدد کے بغير باغی کبھی بھی کامياب نہيں ہو سکتے تھے۔ نيٹو کے فضائی حملوں اور مسلسل بمباری نے ان کی پيش قدمی کے ليے راہ ہموار کی۔ اس کے بغير وہ قطعی طور پر شکست کھانے والوں ميں شمار ہوتے۔

باغی طرابلس ميں داخل ہو رہے ہيں

باغی طرابلس ميں داخل ہو رہے ہيں

ليکن اب خود ليبيا کے لوگوں پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اُنہيں يہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ مل جل کر مستقبل کی تشکيل کرنا بھی جانتے ہيں۔ خطرات بے شمار ہيں، جنہيں نظر انداز نہيں کيا جا سکتا۔ خاص طور پر عوام ميں لڑائی اور تنازعات پھوٹ پڑنے کا بہت زيادہ خطرہ ہے۔ قذافی حکومت کے حاميوں پر انتقامی حملوں کا بھی خطرہ ہے، جنہيں روکنا ضروری ہے۔ منقسم اپوزيشن کو پارٹيوں کی شکل دينا ہو گی۔ قبائل کو اکٹھا کرنے اور مفادات کی منصفانہ ترتيب کی ضرورت ہے۔ ايک نيا آئين مرتب کيا جانا چاہيے اور جمہوری انتخابات کا اچھا انتظام بھی ضروری ہے۔

ليبيا کے باغی، جشن

ليبيا کے باغی، جشن

ان سب باتوں کے ليے وقت درکار ہے اور اس کا نتيجہ مصر کی طرح ايسا بھی نکل سکتا ہے جو يورپ کو پسند نہ ہو، مثلاً اسلامی قوتوں کا طاقتور ہو جانا۔ اگر ليبيا بحيرہء روم کے علاقے ميں عرب يورپی تعاون کی ايک مثال بن جائے، تو يہ يورپ اور مغرب کے ليے سب سے بہتر ہو گا۔ اور اگر يورپ ليبيا ميں جمہوری عمل کو کامياب بنانے ميں اس طرح حصہ لے سکے کہ وہ سياسی طور پر جارحانہ مداخلت نہ کرے، تو يہ بہت ہی اچھا ہو گا۔

جرمنی نے ليبيا کے خلاف جنگی کارروائی ميں جان بوجھ کر حصہ نہيں ليا۔ اس پر اُسے تنقيد کا نشانہ بھی بنايا گيا۔ اس کے باوجود يہ خواہش بجا طور پر کی جا سکتی ہے کہ جرمنی ليبيا کے ساتھ آئندہ سياسی تعاون ميں فعال طور پر حصہ لے۔

تبصرہ: رائنر زولش

ترجمہ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM