1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’قذافی بخیریت ہیں،جنگ جاری ہے‘‘

لیبیا کے سابق رہنما اور اس وقت روپوش معمر قذافی کی شعلہ بیان بیٹی عائشہ قذافی نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کے والد معمر قذافی بخیریت ہیں، ان کے حوصلے بہت بلند ہیں اور وہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

default

طرابلس سے موصولہ رپورٹوں میں خبر ایجنسی اے پی نے بتایا ہے کہ قذافی مخالف باغی فورسز کے ملکی دارالحکومت پر قبضے کے بعد سے یہ عائشہ قذافی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ اپنے اس پیغام میں معمر قذافی کی بیٹی نے کہا ہے کہ ان کے والد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اُن باغی قوتوں کے خلاف  جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جنہوں نے گزشتہ ماہ لیبیا میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

Libyen Revolution Nationaler Übergangsrat NO FLASH

عائشہ قذافی نے اس بیان میں کہا کہ خود کو لیبیا کے نئے رہنما قرار دینے والے افراد غدار ہیں، جن سے لیبیا کے عوام کو خبردار رہنا چاہیے۔ طرابلس پر باغیوں کی عبوری کونسل کے حامی جنگجو دستوں کے قبضے کے بعد سے شامی ٹیلی وژن چینل ’الرائے‘ کافی حد تک معمر قذافی کا ترجمان بن چکا ہے۔ عائشہ قذافی کی عمر تیس اور چالیس برس کے درمیان ہے، وہ پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں اور ماضی میں دو سال تک اقوام متحدہ کی خیرسگالی کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔

عائشہ قذافی کا چار منٹ دورانیے کا آڈیو پیغام جمعہ کو رات گئے اسی شامی ٹیلی وژن چینل سے نشر کیا گیا۔ اس پیغام میں عائشہ قذافی نے کہا کہ آج جو لوگ طرابلس میں نئے حکمران بن کر بیٹھ گئے ہیں کل انہوں نے ہی قذافی سے وفاداری کے عہد کیے تھے۔ عائشہ قذافی نے اپنے اس بیان میں عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہی نئے حکمران آنے والے کل کو اپنے ہی ہم وطن افراد کو بھی دھوکہ نہیں دیں گے۔

NO FLASH Libyen Jalloud Rebellen

شامی ٹیلی وژن چینل الرائے اس حد تک قذافی کا حامی ہے کہ طرابلس میں قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسی چینل سے معمر قذافی اور ان کے ترجمان اعلیٰ کے علاوہ ان کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے بھی کئی بیان نشر ہو چکے ہیں۔ اگست میں طرابلس پر باغیوں کے قبضے کے بعد معمر قذافی کے خاندان کے جو ارکان فرار ہو کر الجزائر پہنچ گئے تھے، ان میں قذافی کی یہی بیٹی عائشہ، عائشہ کی والدہ اور دو بھائی بھی شامل تھے۔ الجزائر میں قیام کے دوران عائشہ قذافی نے تیس اگست کو ایک بیٹی کو جنم بھی دیا تھا۔

الرائے سے نشر ہونے والے اپنے اس بیان میں عائشہ قذافی نے یہ بھی کہا کہ وہ لیبیا کے عوام کو یقین دلاتی ہیں کہ ان کے والد معمر قذافی بخیریت ہیں، ’’خدا پر یقین رکھنے والے ایک مسلمان کے طور پر ان کے حوصلے بلند ہیں، ان کی بندوق ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے باہمت ساتھیوں کے ہمراہ اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔ لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ معمر قذافی اس وقت کہاں ہیں۔

 

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس