1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قذافی اقتدار چھوڑ کر لیبیا میں رہ سکتے ہیں: فرانس

لیبیا میں معمر القذافی کے طویل اقتدار کے خلاف مسلح جدوجہد کے دوران سویلین آبادی کو بچانے کے لیے نیٹو کے فضائی مشن کے حوالے سے فرانس خاصی حساسیت رکھتا ہے۔ تنازعے کے حل کے سلسلے میں بھی فرانس سفارتی سطح پر متحرک ہے۔

default

معمر القذافی: فائل فوٹو

فرانس کے وزیر خارجہ الاں ژوپے کے مطابق اگر جنگ بندی سمجھوتے کے تحت قذافی اقتدار سے علیٰحدہ ہو جائیں تو اپنے ملک میں قیام کر سکتے ہیں۔ اس ممکنہ تجویز کو فرانس کی منظوری حاصل ہونے کا عندیہ بھی فرانسیسی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں دیا ہے۔ اس بیان میں الاں ژوپے نے یہ ضرور واضح کیا کہ قذافی کو لیبیا میں قیام کے دوران سیاسی اور فوجی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی۔

ژوپے کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ بندی کی بات شروع ہونے کے بعد سے وہ اقتدار سے علیٰحدگی کے بعد قذافی کے لیبیا میں قیام کی تجویز کی توقع کر رہے تھے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے لیبیا کی اندرونی صورت حال کے حوالے سے یہ ضرور کہا کہ پیش رفت ضرور ہو رہی ہے لیکن ابھی باغیوں کی پیشقدمی میں ٹرننگ پوائنٹ نہیں آیا۔

Libyen Juli 2011 NO FLASH

باغیوں کی جانب سے پیش قدمی کا سامنا ہے

فرانس قذافی حکومت کے خلاف جاری نیٹو کے جنگی آپریشن میں شامل ہے۔ فرانس وہ سب سے پہلا ملک ہے، جس نے لیبیا کے باغیوں کی عبوری کونسل کو باقاعدہ تسلیم کیا تھا۔ مصراتہ شہر سے تعلق رکھنے والے باغییوں کے فوجی کمانڈر بدھ کے روز فرانسیسی صدر سے ملاقات کے لیے بھی بلائے گئے۔ ان کے وفد نے اس ملاقات میں اضافی امداد کو اپنے مطالبوں میں اولیت دی ہے۔ اس وفد میں جنرل رمضان زرمہ، کرنل احمد ہشام اور سلیمان فورتیہ شامل ہیں۔

اسی طرح فرانس کے وزیر دفاع Gerard Longuet کا کہنا ہے کہ طرابلس میں قائم قذافی حکومت کو توانائی کی سپلائی میں کمی کا سامنا ہے۔ پیرس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ توانائی کے حوالے سے طرابلس حکومت کو سارے ملک میں حاصل مکمل کنٹرول بتدریج ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ فرانسیسی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ حکومت، جو روزانہ بین الاقومی سطح پر اپنی ساکھ میں کمی دیکھ رہی ہے، اندرون ملک اس کے اختیار میں کمی ظاہر ہو رہی ہے۔ اسے خود سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس حد تک جائز اور قانونی ہے۔ منگل کے روز امریکی صدر کی رہائش گاہ کےترجمان نے بھی کہا تھا کہ لیبیا کے مرد آہن کو رقم اور تیل کی قلت کا سامنا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس