1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

قدیم مصری ملکہ کی موت کی وجہ، زہریلی دوا کا ممکنہ استعمال

جرمن شہر بون کی یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ 35 سو برس قبل ہلاک ہونے والی مصری ملکہ ہیٹشی پسوٹ کی موت کی ممکنہ وجہ جلد کے مرض سے نجات کے لیے زہریلی دوا کا ممکنہ استعمال تھا۔

default

اس ملکہ کے زیراستعمال رہنے والے کچھ برتن جرمن شہر بون کے قدیم مصری تہذیب سے متعلق میوزیم میں موجود ہیں۔ انہیں برتنوں میں موجود قدیم اور خشک مادوں کے تجزیے سے، 15 سو سال قبل از مسیح کے دور کی اس مصری ملکہ کی موت کی وجوہات کے حوالے سے یہ تحقیق آگے بڑھائی گئی ہے۔ محققین کے مطابق ملکہ کے زیراستعمال رہنے والے ایک چھوٹے سے فلاسک میں ایک زہریلے مادے کا سراغ ملا ہے، جو غالبا ملکہ ہیٹشی پسوٹ اپنی جلد سے متعلق مسائل سے نجات کے لیے بطور دوا استعمال کیا کرتی تھی۔

بون یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’یہ بات ایک عرصہ قبل معلوم ہو چکی ہے کہ ہیٹشی پسوٹ خاندان کے لوگ جلدی امراض کا شکار تھے۔‘

Ägypten Mumie der Pharaonin Hatschepsut identifiziert

ملکہ ہیٹشی پسوٹ کی ممی

بیان میں ماہرین کی اس رائے کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ملکہ کے زیراستعمال رہنے والے اس فلاسک میں جائفل اور پام کے تیل کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر عناصر سے مرقع مادے کی دریافت ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے، ’یہ بات پہلے ہی مُسلّمہ ہے کہ اُس دور میں اس مادے کو جلد کی سوزش اور داغوں سمیت مختلف جلدی امراض کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔‘

واضح رہے کہ اب ہر طرح کی کاسمیٹک مصنوعات میں اس مادے کے استعمال پر پابندی عائد ہے کیونکہ یہ کینسر کا باعث بنتا ہے۔

بون یونیورسٹی کے فارماکولوجی ڈپارٹمنٹ کے مطابق، ’’ملکہ اپنی جلد پر سوزش سے وقتی نجات کے لیے پام اور جائفل کا تیل استعمال کرتی ہوں گی، تاہم اس استعمال سے وہ کینسر جیسے شدید خطرات میں گھِر گئیں تھیں، یہ شاید انہیں معلوم نہیں تھا۔‘‘

بون یونیورسٹی کی اس تحقیقی ٹیم سے وابستہ میشاعیل میولر کا کہنا ہے کہ کینسر کو اس مصری ملکہ کی موت کی وجہ تو ایک مدت سے قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب یہ بات بھی قدرے واضح ہے کہ اس کینسرکی وجہ کیا تھی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM