1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

قدیم دور کے انسان کی مرغوب غذا سلاد تھی

لاکھوں سال قبل انسان کا جبڑا طاقتور زنبور کی مانند تھا۔ وہ بادام اور اخروٹ جیسی سخت خول والی کھانے کی اشیا کو دانتوں سے توڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ محققین کو معلوم ہوا ہے کہ یہ انسان ہری گھاس یا سلاد شوق سے کھاتے تھے۔

default

قدیم دور کے انسان کی کھوپڑی

امریکی ریاست یُوٹا کی یونیورسٹی کے ارضیاتی کیمیا کے ماہرین نے تازہ ریسرچ کے بعد یہ نظریہ پیش کیا ہے۔ محققین کو یہ تو معلوم ہو چکا ہے کہ قدیم دور کا انسان مظبوط جبڑے کا مالک تھا اور یہ دہانہ مضبوط چھال والے پھلوں کو بڑی آسانی سے توڑ دیتا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس دور کے انسان کو سبز سلاد سے خاص رغبت تھی اور اس رغبت کی وجہ سے وہ ہری گھاس تک کو کھا جایا کرتے تھے۔

ماہرین نے قدیم دور کے انسان کو نٹ کریکر مین کے استعارے سے نواز رکھا ہے۔ یُوٹا یونیورسٹی کے ارضیاتی کیمیا کے ماہر Thure Cerling اس ٹیم کے سربراہ ہیں، جس نے نٹ کریکر انسان میں سلاد خوری کی عادت کو دریافت کیا ہے۔ اس ٹیم کی نئی ریسرچ امریکہ کی نیشنل اکیڈمی برائے سائنسز کے معتبر جریدے میں شائع کی جا رہی ہے۔

تازہ تحقیق میں Cerling کی ٹیم نے قدیم دور کے انسان کی داڑھوں میں موجود مواد کا لیبارٹری ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد اس کی گھاس خوری کی عادت کا پتہ چلایا ہے۔ قدیم زمانے کے انسان میں پائی جانے والی داڑھیں یا مولرز موجودہ دور کے انسان کے مقابلے میں تین گنا بڑی تھیں اور اسی باعث وہ نٹ کریکر تھا۔ قدیم دور کے انسان کا حیاتیاتی نام Paranthropus boisei ہے۔ اس دور کے انسان کے سامنے سخت سے سخت چھال والے پھل کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت کے انسان، سخت بیرونی چھال کو بڑی آسانی سے اپنی داڑھوں سے توڑ دیا کرتے تھے۔ ایسے انسانوں کی حیات کا عہد تقریباً بارہ لاکھ سال قبل تھا۔

Flash Urmensch Knochen Skelett Fund in Südafrika Witwatersrand

جنوبی افریقہ سے ملنے والی بیس لاکھ سال پہلے کے انسان کی ہڈیاں

یُوٹا یونیورسٹی کی ارضیاتی کیمیا کے ماہرین کی ٹیم میں امریکی اور کینیا کے محققین شامل تھے۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ لاکھوں سال قبل کے Paranthropus boisei انسان اس دور میں زمین پر ایسے ہی گھومتے رہتے تھے جیسے جنگلوں کے جانور ۔ وہ دریاؤں کے کنارے اُگے گھنے جنگلوں میں زیبرا اور دریائی گھوڑوں کی مانند بڑے شوق سے ہری ہری گھاس کھاتے تھے۔

اس دور کے انسان کو نٹ کریکر مین کہنے کی وجہ تنزانیہ میں سن 1959 میں ملنے والی انسانی کھوپڑی ہے اور اس میں داڑھوں کا سائز موجودہ انسانوں کے مقابلے میں بہت بڑا تھا۔ اس کھوپڑی کی داڑھوں سے ملنے والے مواد سے گھاس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ اس کھوپڑی سے ملنے والے دانتوں کے اندر سے مواد کا کاربن آسوٹوپ کے تحت مطالعہ کیا گیا۔

بشری علوم کے ماہرین نے نئی ریسرچ کو بریک تھرو کا حامل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مشرقی افریقہ میں پائے جانے والے قدیم دور کے انسان بارے یہ معلومات مزید تحقیق کی راہ ہموار کرے گی۔ انسان کے ارتقائی عمل کے ماہرین نے بھی یُوٹا یونیورسٹی کی ریسرچ کو مفید اور دلچسپ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے ماضی بارے حیران کن انکشافات سے آگہی حاصل ہو رہی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس