1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قدیم تہذیبی ورثہ آمری زیر آب

پاکستان میں آنے والے سیلاب نے جہاں عوام کی زندگیاں عذاب میں مبتلا کر دی ہیں وہیں یہ لوگ اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے مختلف طریقے بھی اختیار کر رہے ہیں۔

default

صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں سیلاب زدہ ایک شخص نے اپنے گھروالوں کے ساتھ ایک ایسی پہاڑی پر پناہ لے رکھی ہے، جو قدیم بادشاہوں کی قیام گاہ سمجھی جاتی ہے۔

دریائے سندھ کے کنارے پر واقع وادی مہران کے قدیم تہذیبی ورثے آمری کے ایک موجودہ رہائشی نے اپنے گھر والوں کے ساتھ اس چھوٹی سی پہاڑی پر پناہ لے رکھی ہے، جو تاریخی حوالے سے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ اچہر نامی یہ بزرگ اور نحیف شخص اس بات پر خوش ہے کہ وقتی طور پر وہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچ گیا ہے تاہم امدادی کاموں کی سست روی پر وہ سراپا احتجاج ضرور ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا: ’’سڑکوں پر کوئی سایہ دار جگہ نہیں ہے اور پانی کا خوف ہے۔ تاہم یہ نہ صرف ایک بلند مقام ہے بلکہ محفوظ بھی ہے۔‘‘ وہ اپنے گھرانے کے سولہ افراد کے ساتھ اس تاریخی پہاڑی پر پناہ لئے ہوئے ہے۔

دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع آمری نامی قدیم تہذیبی ورثہ کوئی تین ہزار سال قبل از مسیح کے دور کا ہے۔ یہ تہذیب جنوبی ایشیائی تہذیب کے اہم ستونوں میں شمار کی جاتی ہے۔ قدیم آمری تہذیب اس علاقے کی پہلی معلوم تہذیب بھی کہلاتی ہے، جو موہنجو دڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے۔

حالیہ سیلاب سے اگرچہ موہنجو دڑو ابھی تک محفوظ ہے تاہم آمری کا تاریخی ورثہ زیر آب آ چکا ہے۔ صوبائی محکمہء آثار قدیمہ نے پہلے ہی اس علاقے کے زیر آب آ جانے کے خطرے سے خبردار کر دیا تھا لیکن پاکستان کے اس قومی تہذیبی ورثے کو بچانے کے لئے مناسب اقدامات نہ کئے جا سکے۔

آمری میں پانچ روز قبل سیلاب آیا تھا۔ اس علاقے میں سیلابی ریلے کی آمد سے قبل ہی لوگوں کو خبردار بھی کر دیا گیا تھا۔ اچہر کا کہنا ہے کہ وارننگ ملنے کے فورا بعد ہی وہ اپنے گھر والوں اور ضروری سازوسامان کے ساتھ اس تاریخی پہاڑی پر پہنچ گیا تھا۔ اچہر نے بچوں اور خواتین کو تپتی دھوپ سے بچانے کے لئے دیسی ساخت کا ایک چھوٹا سا خیمہ بھی لگا رکھا ہے۔

Flash-Galerie Zerstörte Hochkulturen Mohenjo Daro

موہنجو دڑو ابھی تک سیلاب سے محفوظ ہے

اچہر کے مطابق گزشتہ روز وہاں امدادی کارکن آئے تھے اور وہ ایک چھوٹی سی کشتی میں بیٹھ کر امدادی سامان لے آیا تھا۔ اس امدادی سامان میں کھانے پینے کی اشیاء بھی شامل تھیں۔ وہ کہتا ہے کہ سیلاب اس کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس علاقے میں بسنے والے لوگ سیلاب کے عادی ہیں۔ وہ اکثر پہاڑی کے ایک کونے پر بیٹھ کر نیچے مٹی کے بنے اپنے اس گھر کو دیکھتا ہے، جو اب تک جزوی طور پر پانی میں بہہ چکا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM