1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قدیم ترین جرمن سیاسی پارٹی ایس پی ڈی کے بارے میں اہم حقائق

ایس پی ڈی دنیا کی قدیم ترین سیاسی پارٹیوں میں سے ایک ہے۔ اس پارٹی کی طویل تاریخ میں اس پر پابندی بھی لگی اور یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوئی لیکن اپنے موجودہ مقام تک پہنچنے کے لیے اس پارٹی نے انتہائی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔

 جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کو دنیا کی قدیم ترین سیاسی پارٹیوں میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس پارٹی کی طویل تاریخ میں اس پر پابندی بھی لگی اور یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوئی۔ اس پارٹی نے اپنے موجودہ مقام تک پہنچنے کے لیے انتہائی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔

کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے بارے میں اہم حقائق

اسلام مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کے بارے میں اہم حقائق

جرمنی کا آئندہ چانسلر میں ہوں گا، مارٹن شلس

دنیا کی تقریباﹰ سبھی سیاسی جماعتیں اپنے قیام کے بارے میں روایتی قصے کہانیوں کا سہارا بھی لیتی ہیں۔ اسی طرح سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کی قدیم ترین سیاسی پارٹی ہے۔ اگر دنیا کی نہیں بھی تو کم ازکم یہ امر یقینی ہے کہ جرمنی میں جس پہلی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی گئی تھی، وہ ایس پی ڈی ہی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 01:27

جرمنی میں انتخابات کیسے ہوتے ہیں؟

تئیس مئی سن 1863 کو ایک متمول تاجر کے بیٹے فرڈینانڈ لسالے ’جنرل جرمن ورکرز ایسوسی ایشن‘ کی بنیاد رکھنے میں نمایاں شخصیت قرار دیے جاتے ہیں۔ تقریباﹰ ڈیرھ سو سال گزر جانے کے بعد اب اس میں کوئی ابہام نہیں کہ انیسویں صدی میں بننے والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی فرڈینانڈ لسالے ہی تھے۔

اس پارٹی سے زیادہ پرانی سیاسی جماعتوں میں سابق امریکی صدر ابراہام لنکن کی سیاسی جماعت ’ری پبلکن پارٹی‘ بھی ہے، جس کی بنیاد سن 1854 میں رکھی گئی تھی۔ یوں امریکی قدامت پسند ری پبلکن پارٹی عمر میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے صرف نو برس بڑی ہے۔

سوشل ڈیموکریٹ فرڈینانڈ لسالے کا پیغام تھا، ’’اگر آپ (مزدور) اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ریاست کو مجبور کرنا پڑے گا کہ وہ آپ کو برابری کے مواقع فراہم کرے اور اقتصادی طور پر آپ کے حقوق محفوظ ہوں۔‘‘ یہ وہ دور تھا جب نصف شہری ناخواندہ تھے اور شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کا کوئی وجود نہیں تھا۔

ایس پی ڈی کی مزاحمت

فرڈینانڈ لسالے نے اپنی جدوجہد کے دوران اپنی پارٹی کے پہلے پملفٹ میں لکھا تھا کہ اگر اس ایسوسی ایشن کے ممبران کی تعداد ایک لاکھ ہو جاتی ہے، تو کوئی اس تحریک کے وجود سے انکار نہیں کر سکے گا۔

Ferdinand Lassalle

فرڈینانڈ لسالے ’جنرل جرمن ورکرز ایسوسی ایشن‘ کی بنیاد رکھنے میں نمایاں شخصیت قرار دیے جاتے ہیں

وقت نے ان کے اس نظریے کو درست ثابت کیا۔ جرمن ایمپائر کے دوران سن 1871 تا 1918ء اس پارٹی کے ممبران کی تعداد ایک ملین ہوئی تو اس نے ایک عوامی تحریک کا روپ دھار لیا۔ تب الیکشن میں اس پارٹی نے ایک تہائی عوامی ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس دور میں یہ پارٹی اتنی مضبوط ہو گئی تھی کہ نئی بننے والی متحدہ جرمن ایمپائر کے چانسلر اوٹو فان بسمارک نے ’اینٹی سوشلسٹ لاز‘ کی آڑ میں اس پارٹی پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تب ٹریڈ یونین دوست اور سوشل ڈیموکریٹ کارکنوں کی نگرانی بھی شروع ہو گئی تھی اور متعدد کارکنوں کو ملک بدر یا ترک وطن پر مجبور بھی کر دیا گیا تھا۔

ماضی میں ایس پی ڈی کے ممتاز رہنما Erhard Eppler کے مطابق ظلم وستم کا یہی وہ دور تھا، جب جرمنی میں سوشل ڈیموکریسی کی تحریک مزید مضبوط ہوئی۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد

پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر پیدا ہونے والی صورتحال میں سوشلسٹ ورکرز تحریک میں دراڑیں پڑیں، تو سیاسی جدوجہد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تب ایک دھڑا اصلاحات پسندی کا حامی بنا تو دوسرا انقلابی نظریات کا حامی بن گیا تھا۔

نو نومبر سن انیس سو اٹھارہ کو جب جرمنی کے امپیریل چانسلر قیصر ولہیم دوئم اقتدار سے الگ ہوئے، تو سوشل ڈیموکریٹس کے دونوں دھڑوں نے ایک نئی جمہوریہ کے قیام کا مطالبہ پیش کر دیا تھا۔ اصلاحات پسند سوشل ڈیموکریٹ Philipp Scheidemann  کا کہنا تھا کہ اعتدال پسند جمہوری ریاست بننی چاہیے تو انقلابی سوچ کے حامل  Karl Liebknecht کا اصرار تھا کہ ’سوشلسٹ۔ کمیونسٹ‘ جرمنی کی بنیاد رکھی جانا چاہیے۔

بیس اور تیس کی دہائیوں میں ہونے والی عالمی تبدیلیوں کے باعث ’سوشل ڈیموکریسی‘ کو ایک ناکام نظریے سے مشروط کر دیا گیا۔ تاہم تب ’وائیمار ری پبلک کے قیام میں اعتدال پسند سوشل ڈیموکریٹس کی حمایت بھی حاصل کر لی گئی تھی۔ یہ ری پبلک جرمن سرزمین پر پہلی جمہوری ریاست قرار دی جاتی ہے۔

Deutschland Bundestagswahl 2017 - SPD - Martin Schulz (Getty Images/M. Hitij)

اس سال چوبیس ستمبر کے وفاقی انتخابات میں ایس پی ڈی کے امیدوار مارٹن شُلس ہیں، جو انگیلا میرکل کے مد مقابل ہیں

تاہم پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث سیاسی عدم استحکام، کمزور انفراسٹکرکچر اور بے روزگاری کے باعث مسائل دوچند ہو چکے تھے۔ سن انیس سو اٹھارہ تا انیس سو تینتیس کا درمیانی عرصہ اقتصادی لحاظ سے بھی ابتری کا شکار رہا اور یوں کمزور سیاسی ادارے اڈولف ہٹلر کی نیشنل سوشلسٹ تحریک کو نہ روک سکے۔ تاہم سوشل ڈیموکریٹس نے اس وقت بھی ہٹلر کی مخالفت ہی کی تھی۔

وفاقی جمہوریہ جرمنی میں ایس پی ڈی کا کردار

دوسری عالمی جنگ کے بعد وفاقی جمہوریہ جرمنی کا قیام عمل میں آیا۔ اس دور میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بائیں بازو کی ایک مقبول جماعت بن کر ابھری۔ تب برسر اقتدار کرسچن ڈیموکریٹک یونین نے ملک کی ترقی کی خاطر سرمایہ کارانہ اصلاحات متعارف کرائیں اور جرمنی کو ’اقتصادی معجزے‘ کی طرف بڑھایا تو ایس پی ڈی نے بھی اپنے سرمایہ کارانہ مخالف رویے میں کچھ لچک پیدا کرنا شروع کر دی۔

سن 1959 میں ’باڈ گوڈس برگ پروگرام‘ کے تحت ایس پی ڈی نے مارکیٹ اکانومی پر سمجھوتہ کر لیا۔ اس پروگرام کو ایس پی ڈی کا ایک نیا جنم بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ایس پی ڈی کے جدید دور کے اہم رہنماؤں میں ولی برانٹ، ہیلموٹ شمٹ اور گیرہاڈر شروئڈر شامل ہیں۔ سی ڈی یو کی طرح یہ رہنما بھی یورپی اتحاد کے قائل رہے اور انہوں نے اپنی اپنی جگہ منقسم جرمنی کے اتحاد کو ممکن بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔

ایس پی ڈی کی طرف سے جرمنی کے چانسلر بننے والے آخری سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان گیرہارڈ شروئڈر تھے، جنہوں نے انیس سو اٹھانوے سے سن دو ہزار پانچ تک یہ منصب سنبھالا۔ اس کے بعد سے سی ڈی یو کی رہنما انگیلا میرکل جرمنی کی چانسلر ہیں۔ اس سال چوبیس ستمبر کے وفاقی انتخابات میں ایس پی ڈی کے امیدوار مارٹن شُلس ہیں، جو انگیلا میرکل کے مد مقابل ہیں۔ عوامی جائزوں کے مطابق میرکل کو اپنے حریف سوشل ڈیموکریٹ سیاست دان پر واضح برتری حاصل ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic