قدرتی حسن کا شاہکار دریائے موزل | معلوماتِ جرمنی | DW | 22.05.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معلوماتِ جرمنی

قدرتی حسن کا شاہکار دریائے موزل

موزل دریا کے کنارے سائیکل سواری جرمنی کے خوبصورت ترین علا قے سے لطف اندوز ہو نےکا ایک مثالی ذریعہ ہے، جہا ں پسینہ خشک کرنے کے لئے کسی وقفےکی بھی ضرورت نہیں۔

سائیکل سیرکا ایک آسان ترین روٹ رومان روڈ پر سفرکرنا ہے۔ یہ راستہ دریائے موزل کے دلکش کناروں کے ساتھ ساتھ ڈھلوان پہاڑی علاقے پر پھیلے انگوروں کے باغات کے درمیان سے سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا گذرتا ہے۔ موزل کےعلا قے میں سائیکل روٹس کا ایک شاندارنیٹ ورک موجود ہے، جس میں’’فینلو ٹور موزل‘‘ خاصا مشہور ہے۔ ان راستوں پر چلتے ہوئے انسان مسحورکن  وادیوں اور دلفریب مناظر میں کھو جاتا ہے۔

Winzer Leitzgen in steilsten Weinberg Europas Weinberg Bremmer Calmont an der Mosel

یہاں دوسری صدی عیسوی سے ہی انگوروں سے شراب کشیدکی جا رہی ہے

 قدیمی دور کی تاریخ پر ایک نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ موزل کا علا قہ اولین پانچ صدیوں میں رومیوں کے زیِر تسلط رہا۔ اس دور کے آثار آج بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔ جرمنی کے سب سے پرانے شہر  ٹرئیرکو مغربی رومن سلطنت کے  پایہء تخت کی حثیت حاصل رہی۔ آج بھی یہاں قدیمی رومن  عمارتوں کی تعداد شہر روم کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ یہاں بیضوی تماشا گاہ کےکھنڈرات، قدیمی عمارتیں اور خاص طور پر رومن گیٹ پوٹرانیگرا، جسے یونیسکو نے عالمی ورثے کی حیثیت دے رکھی ہے، آج بھی رومن دور کی شان وشوکت کی گواہی دیتےہیں۔ یہاں آنے والے سیاح قصبے کے پرشکوہ قصرکی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے، جسے چوتھی صدی کے آغاز میں شہنشاہ قسطنطین ملاقاتی ہال اور تخت شا ہی کےطور پر استعما ل کرتے تھے۔

 

Deutschland Mosel Weinbau Calmont Europas steilster Weinberg

دریائے موزل جرمنی کی قدیمی تاریخ کے بے شمار راز لئے ہوئے ہے

موزل کے علاقے میں چوتھی صدی میں دریا فت ہونے  والے شا ہی حماموں کےکھنڈرات کی مرمت  و بحالی کے بعد انہیں فوجیوں کی یبرکوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ یہیں سے جرمنی کے سب سے قدیمی پل  کی بنیادیں بھی ملی ہیں، جسے رومیوں نے تعمیرکیا تھا۔ آج بھی موزل کے انگوروں کے باغات والے علاقے میں اسےگیٹ وے کی حثیت حاصل ہے۔ علا قےکی مشہور جگہوں میں رومن دور کی آ خری نشانیوں کے  طور پر وہ افسانوی قلعے اور خوبصورت قصبے شامل ہیں، جن کے مکانات لکڑی اور پتھر کے بنے ہیں۔ یہاں کے لوک گیت اور پرانے قصےکہانیاں بھی اسی دورکی یاد دلاتے ہیں۔

موزل علا قے کی ایک مشہور شے یہاں کی وائن  ہے۔ سیاح  علا قےکے متعدد وائن ہا وسز میں رات بھر قیا م کر سکتے ہیں اور وائن سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہاں دوسری صدی عیسوی سے ہی انگوروں سے شراب کشیدکی جا رہی ہے۔ اگرمسافرسائیکل چلاتا  چلاتا تھک جائے تو دریائے موزل کےکنارے ایسی بے شمار سایہ دار جگہیں موجود ہیں، جہاں رک کر ٹھنڈے خوشگوار مشروبات سے اپنی پیاس بجھائی جا سکتی ہے۔

DW.COM

ویب لنکس