1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

قدرتی آفات کا ذمہ دار انسان بھی ہے، ماہرین

ایشیا کے مختلف ممالک میں آنے والی قدرتی آفات میں ہوئی ہلاکتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ وہاں کے شہریوں اور ان کی حکومتوں کے کئے گئے فیصلے بھی ہیں۔

default

ارضیات کے ماہرین کے مطابق ایشیا میں ان آفات کے نتیجے میں ہوئی ہلاکتوں کو قدرت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی کارستانی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کے ان غیر ذمہ دارانہ کاموں میں جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی اور شہروں کو بسانے کیدرست طور پر پلاننگ نہ کرنے سے لے کر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بہتر سہولیات کا نہ ہونا شامل ہیں۔

Flutwelle in Papua-Neuguinea Juli 1998

ورلڈ وائلڈ لائف سے منسلک ایک ماہر ارضیات نے فلپائن اور انڈونیشیا میں آئی قدرتی آفات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی آفات سے بہتر طور پر نمٹا جاسکتا ہے اگر وہاں کی حکومتیں اور شہری اپنے مکانات تعمیر کرتے وقت سمجھ داری کا مظاہرہ کریں۔ ’’ان آفات کی بنیادی وجوہات ماحولیات میں روزبروز اور تیزی سے آتی تبدیلیوں کے علاوہ جنگلات کی کمی اور بہتر پلاننگ کا فقدان ہیں۔‘‘

فلپائن میں اسی ہفتے آنے والے سیلاب کو حکام نے گزشتہ چار دہائیوں میں سب سے زیادہ ہونے والی بارش کا نتیجہ قرار دیا تھا، مگر ماہرین منیلا میں اس سیلاب کو نکاسیء آب کی بنیادی سہولیات کے فقدان کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب شہریوں کی طرف سے دریاؤں کے کنارے کچے گھروں کی تعمیر بھی کسی بھی قدرتی آفت آنے کی صورت میں زیادہ انسانوں کی موت کا باعث بنتی ہے۔

ایشیاء میں ایسے شہروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، جہاں ایک ملین سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک کے مطابق دنیا بھر میں 2008 ء تک 3.3 فیصد افراد شہروں میں رہتے تھے، جبکہ 2030 ء تک ان کی تعداد پانچ بلین تک ہوجائے گی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بیسیویں صدی کے آغاز میں دنیا بھر میں صرف 11 شہر ایسے تھے جن کی آبادی ایک ملین سے زیادہ تھی، تاہم گزشتہ صدی کے اختتام تک یہ تعداد 500 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: افسر اعوان