1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’قدرتی آفات بھی غریبوں ہی کو زیادہ متاثر کرتی ہیں‘

قدرتی آفات غریب اور امیر کے مابین کوئی فرق کیے بغیر آتی ہین لیکن طوفانوں، زلزلوں اور سیلابوں سے سب سے زیادہ متاثر غریب ممالک کے عوام ہی ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم نے اس بارے میں اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

آج جمعرات کو آکسفیم کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ کا عنوان ہے، ’Uprooted by Climate Change‘ یعنی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے در بدر۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید موسمی حالات سے غریب ممالک کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان ممالک کے شہریوں کو بہت بڑی تعداد میں اپنے آبائی علاقوں سے رخصتی کا سامنا ہے، جس کا بڑا سبب انتہائی شدید نوعیت کے موسمی حالات، طوفان اور سیلاب ہوتے ہیں۔

آکسفیم کے ایک نئے مطالعے کے مطابق دو ہزار آٹھ اور دو ہزار سولہ کے درمیانی عرصے میں ہر سال اوسطاﹰ چودہ ملین انسان انہی غیر معمولی موسمی حالات اور قدرتی آفات کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس کے مقابلے میں امیر ممالک میں یہی اوسط سالانہ تعداد ایک ملین کے قریب رہی۔

اگلے ہفتے جرمن شہر بون میں شروع ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے تناظر میں آکسفیم نے تحفظ ماحول کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تنظیم کے مطابق فوسل ایندھن سے حاصل کی جانے والی توانائی سے دستبرداری اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے غریب ممالک کی امداد بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جانا چاہییں۔

آکسفیم کے مطابق 2016ء میں اچانک آنے والے طوفانوں کی وجہ سے ساڑھے تئیس ملین انسانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ان اعداد و شمار میں وہ افراد شامل نہیں ہیں، جو طویل عرصے سے سخت موسمی حالات کی وجہ سے خشک سالی کا شکار ہونے والے علاقوں سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔

 

ویڈیو دیکھیے 04:16

جرمنی میں سمندری حیات کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش

 

DW.COM

Audios and videos on the topic