1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قدامت پسند ملکی سماجی نظام کو ختم کر سکتے ہیں، شلس

رواں مہینے کی چوبیس ستمبر کو ہونے والے الیکشن میں چانسلر میرکل کی جیت یقینی خیال کی جا رہی ہے۔جرمنی کے عام انتخابات میں مارٹن شلس کی سیاسی جماعت رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق پیچھے ہے۔

بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی اہم سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما مارٹن شلس نے ٹیلی وژن پر عام انتخابات سے قبل اپنی آخری تقریر میں واضح کیا ہے کہ ایسا امکان ہے کہ چانسلر میرکل کے قدامت پسند ملک کے سماجی نظام کو مٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے اپنی پارٹی کی سماجی اصلاحات کی پالیسی کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کیا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 24 ستمبر کے انتخابات میں یورپی پارلیمنٹ کے سابق صدر شلس کی سیاسی جماعت کامیابی سے بہت دور ہے۔

ایردوآن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں، مارٹن شُلس

جرمن الیکشن سے قبل میرکل کی پارٹی کی مقبولیت میں کمی، جائزہ

قدیم ترین جرمن سیاسی پارٹی ایس پی ڈی کے بارے میں اہم حقائق

کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے بارے میں اہم حقائق

مارٹن شلس کی تقریر کے اہم موضوعات کچھ یوں تھے:

مکانات کے کرایوں پر کنٹرول

مارٹن شلس نے پیر کی شام والایرینا (انتخابات کا علاقہ) میں تقریر کے علاوہ حاضرین کے سوالات کے جواب بھی دیے۔ ایک خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شلس نے کہا کہ جرمنی میں عوام کو ایک حیران کن صورت حال کا سامنا ہے کہ وہ مشکلات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی ڈی نے سن 2015 میں مکانات کے کرایوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں میرکل اور اُن کی سیاسی جماعت سی ڈی یُو کی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ شلس نے خیال ظاہر کیا کہ اگلی حکومت امکاناً سی ڈی یو، سی ایس یو اور ایف ڈی پی کے درمیان دکھائی دے رہی ہے اور اُس صورت میں مکانات میں کرایوں کے اضافے کی صورت حال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔

Deutschland wählt BTW-Reise ARD-Wahlarena Schulz SPD (DW/R. Oberhammer )

جرمنی کے عام انتخابات میں مارٹن شلس کی سیاسی جماعت رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق پیچھے ہے

مالیاتی قرضے

مارٹن شلس نے یہ واضح کیا کہ اگر وہ حکومت سازی کی پوزیشن میں آتے ہیں تو چانسلر میرکل کی کفایت شعاری کی پالیسی کو جاری رکھا جائے گا تا کہ اگلے چار برسوں میں حکومت پر قرضوں کا بوجھ مزید کم ہو سکے۔ شلس کے خیال میں سرمایہ کاری سے ہی اقتصادی نمو ممکن ہے۔

تارکینِ وطن کا انضمام

ایس پی ڈی کے رہنما نے تارکین وطن کے حوالے سے بعض صورتوں میں سخت پالیسی اپنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی معاشرتی انضمام کے قابل نہیں ہوتا کیونکہ تارکین وطن کے درمیان عجیب و غریب افراد بھی شامل ہیں۔ شلس نے کہا کہ جرمنی میں نفرت پھیلانے والے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، ایسے اور دوسرے مجرموں کو واپس اُن کے وطن روانہ کر دیا جائے گا۔

ARD-Wahlarena mit Kanzlerkandidat Martin Schulz (picture-alliance/dpa/J. Büttner)

مارٹن شلس یورپی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے ہیں

مغربی دفاعی اتحاد

نیٹو کے معاملے پر مارٹن شلس نے اُس امریکی مطالبے کی مخالفت کی، جس میں جرمنی سے کہا گیا ہے کہ وہ اِس دفاعی اتحاد کی مالی معاونت میں اضافہ کرے۔ شلس کے مطابق ملک کی سالانہ شرح پیداوار کے تناظر میں دو فیصد کے مساوی مالی معاونت کا مطلب تقریباً پنتیس بلین ڈالر ادا کرنے ہیں۔ اس سلسلے میں چانسلر میرکل کے وعدے پر انہوں نے تنقید بھی کی۔

ویڈیو دیکھیے 01:09

جرمن الیکشن کے تین مرکزی امیدوار، ’تب اور اب‘

بزرگ شہریوں کی نگہداشت

سوشل ڈیموکریٹ رہنما نے کہا کہ اگروہ چانسلر بن جاتے ہیں تو نرسنگ کیئر کے ایک نئے دور کی ابتدا ہو گی۔ یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے ٹی وی مباحثے میں بھی میرکل کو شلس کی جانب سے نرسنگ کیئر کے معاملے پر تنقید کا سامنا رہا تھا۔

بہبود اطفال

مارٹن شلس نے کہا کہ اگر ایس پی ڈی کی حکومت قائم ہوتی ہے تو وہ اُن والدین کو خاص ریلیف فراہم کریں گے جو اپنے بچوں کی مناسب دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈے کیئر سینٹرز کی فیس بھی بتدریج کم کرتے ہوئے ختم کر دی جائے گی۔ شلس نے تعلیم کے شعبے میں حکومت قائم ہونے کی صورت میں بارہ بلین یورو کی اضافی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic