1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قحط زدہ علاقے کا اتھیلیٹ کشتی رانی کا ماہر

ریو اولمپکس میں ہونے والی کشتی رانی کے مقابلے میں ایک ایسے بھارتی کشتی راں نے کوالیفائی کر لیا ہے جس کا اپنا گاؤں قحط زدہ ہے اور جہاں پینے کے پانی کی بھی سخت قلت ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، دتو بھوکنال نے فوج میں شامل ہونے کے بعد کشتی رانی کا آغاز کیا۔ 24 سالہ دتو بھوکنال کا تعلق مغربی ریاست مہاراشٹر کے قحط زدہ علاقے تالے گاؤں سے ہے۔ اس گاؤں سمیت بھارت کے کئی علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں، ج سبب 330 ملین سے زائد افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

اپنے گاؤں میں خشک سالی کے بارے میں دتو بھونکال کہتے ہیں، ’’میرے گاؤں میں پانی کی شدید کمی ہے، پانی حاصل کرنے کے لیے ہمیں بہت دور جانا پڑتا ہے اور ٹینکر سے پانی حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔‘‘

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے بارش میں کمی کے باعث بھارت کی 10 ریاستیں اور لگ بھگ ملک کی ایک تہائی آبادی خشک سالی سے متاثر ہوئی ہے۔

دتو بھوکنال کی کہانی اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ جب اس نے کشتی رانی کا آغاز کیا، تو اسے پانی میں تیرنا بھی نہیں آتا تھا۔ اس نے سن 2012 میں فوج میں شمولیت حاصل کی تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کر سکے۔ بھارت کے شہر پونے ميں پوسٹنگ کے وقت اس نے کشتی رانی سیکھی۔ دتو بھوکنال کہتے ہیں، ’’جب میں نے پونے میں پہلی مرتبہ اتنا پانی دیکھا تو میں بہت حیران ہوا کیونکہ میں نے اتنا پانی کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘‘ دھیرے دھیرے بھوکنال کا اعتماد بڑھتا گیا اور سن 2014 میں انہوں نے پہلی مرتبہ جنوبی کوریا میں ایشن گیمز میں حصہ لیا جہاں کشتی رانی کے مقابلے میں ان کی پانچویں پوزیشن آئی۔

دتو بھوکنال نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ خوش ہیں کہ اب ان کی محنت رنگ لا رہی ہے، وہ کہتے ہیں، ’’اس شہرت سے مجھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشش جاری رکھوں گا۔‘‘ بھوکنال کاکہنا ہے کہ گاؤں کی مشکل زندگی نے انہیں ایک اچھا ايتھلیٹ بننے میں مدد کی ہے۔

بھارت کے کشتی رانی کے چیف کوچ اسماعیل بیگ دتو بھوکنال کے بارے میں کہتے ہیں،’’ یہ کامیاب ہونا چاہتا تھا اس نے بہت زیادہ محنت کی ہے اسی لیے کامیابی اس کا مقدر بنی ہے۔‘‘

DW.COM