1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

قبرص کے فوجی اڈے میں پھنسے مہاجرین کا سترہ سالہ المیہ

کئی روز سمندر میں گزارنے کے بعد جب تاج بشیر کو کنارا دکھائی دیا تو اسے لگا آخرکار اس کی سوڈان کے ظلم و ستم سے بھاگ کر یورپ میں پناہ حاصل کرنے کی خواہش پوری ہونے کو ہے۔ لیکن سترہ برس بعد بھی اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی۔

1998ء میں لبنان سے سفر کا آغاز کرنے کے بعد تاج بشیر اور شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے دیگر تارکین وطن کی کشتی قبرص کے جزیرے پر پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے قبرص میں پناہ کی درخواست دینے کے بجائے وہاں موجود برطانوی فوجی اڈے میں پناہ حاصل کر لی۔

گزشتہ سترہ برس سے وہ تین مربع میل رقبے پر مشتمل برطانوی علاقے میں پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں لیکن المیہ یہ ہے انہیں برطانیہ جانے کی اجازت نہیں ہے۔

ان تارکین وطن کو قبرص کے برطانوی فوجی اڈے میں پناہ دے دی گئی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں ساٹھ کے عشرے میں بنائی گئی جھونپڑیوں میں عارضی طور پر رہائش دی جا رہی ہے۔ انہیں امید تھی کہ اس کے بعد انہیں برطانیہ بھیج دیا جائے گا۔ گزشتہ سترہ برسوں میں ان کی اولادیں جوان ہو گئیں، لیکن ان کا انتظار ابھی تک ختم نہیں ہوا۔

تینتالیس سالہ بشیر کا کہنا ہے، ’’ہمیں تو انتظار کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اور چوں کہ ہم ایک فوجی اڈے میں رہ رہے ہیں، اس لیے ہمیں بیشتر شہری حقوق بھی حاصل نہیں۔ اس وجہ سے کئی خاندان ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘

اکتالیس سالہ مصطفیٰ شامی کرد ہیں، وہ بھی بشیر کے ساتھ برطانوی اڈے پر پہنچے تھے۔ مصطفیٰ کا کہنا ہے، ’’کاش برطانوی عوام جانتے ہوں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔‘‘

سترہ برس کے انتظار کے بعد بشیر، مصطفیٰ اور دیگر چار خاندانوں نے اب برطانیہ میں قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے برطانوی وکیل کا کہنا ہے، ’’ہمارے موکل برطانیہ آنا چاہتے ہیں اور یہاں رہ کر، کام کر کے، برطانوی معاشرے میں اپنا مثبت حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔‘‘

قبرص کے اس فوجی اڈے پر موجود مہاجرین کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ سہولیات بھی کم کر دی گئی ہیں۔ پہلے ان کے بچے فوجی اڈے کے اسکول میں جاتے تھے، لیکن اب انہیں وہاں پڑھائی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے بچوں کو اب قبرص کے اسکولوں میں جانا پڑتا ہے۔

Isle of Bute Insel Schottland Syrische Flüchtlinge

برطانیہ نے بیس ہزار شامی تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

عراق سے تعلق رکھنے والا بیس سالہ المیرزا کم سنی میں اپنے والدین کے ہمراہ اس اڈے پر پہنچا تھا۔ اس کا کہنا ہے، ’’قبرصی ہمیں کہتے ہیں کہ ہمارا ان سے کچھ تعلق نہیں، ہم برطانیہ کی ذمے داری ہیں، اور فوجی اڈے کو لوگ بھی ہمیں یہی کہتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالتے ہیں۔‘‘ المیرزا نے حال ہی میں اسکول کی تعلیم مکمل کی ہے اور وہ اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر کہتا ہے، ’’کل کا دن بھی آج کے دن جیسا ہی ہو گا۔‘‘

فوجی اڈے کے ترجمان کا ان مہاجرین کے بارے میں برطانوی موقف دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’وسائل اور جگہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن انہیں برطانیہ بھیج کر تارکین وطن کے لیے ایک نیا راستہ نہیں کھولا جا سکتا۔‘‘

رواں برس اکتوبر میں مزید 115 تارکین وطن کشتیوں کے ذریعے برطانوی فوجی اڈے پر پہنچے تھے اور وہ یہاں پناہ کی درخواست دینا چاہتے تھے۔ لیکن جب انہیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی گئی تو انہوں نے قبرص میں پناہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔

DW.COM