1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قبائلی رہنما قاری زین الدین ہلاک

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف آواز اٹھانے والے گروپ کے سربراہ قاری زین الدین محسود کوان کے محافظ نے گولی مارکر قتل کردیا ہے۔

default

قبائلی رہنما کے قتل کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے

فائرنگ کے اس واقعے میں ان کے ساتھی باغ خان شدیدزخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال پہنچایاگیا۔ قاری زین الدین کے قریبی ساتھیوں کاکہنا ہے کہ انہیں ان کے محافظ گل بدین محسود نامی شخص جو وزیرستان کے علاقے مکین کا رہائشی ہے، نے گولی مارکر قتل کردیا اور واردات کے بعد فرار ہوگیا۔

قاری زین الدین محسود صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مدینہ کالونی میں اپنے ساتھیوں سمیت اپنی رہائش گاہ پرموجود تھے کہ ان کے محافظ نے ان پر گولی چلا دی۔ قاری زین الدین طالبان کے سابق کمانڈر عبداللہ محسود کے قریبی ساتھی اورچچازاد بھائی تھے۔ عبداللہ محسود کی ہلاکت کے بعد مسعود الرحمن کوان کا جانشین مقرر کیاگیا تاہم ان کی ہلاکت کے بعد قاری زین الدین کو عبداللہ گروپ کاسربراہ مقرر کیاگیا۔ چند روز قبل قاری زین الدین نے بیت اللہ محسود پرغیرملکی اداروں کے لئے کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان اورٹانک میں اپنے دفاتر کھول دیئے تھے جہاں وہ نوجوانوں کواپنی فورس میں بھرتی کررہے تھے۔ بیت اللہ محسود کے خلاف آواز اٹھانے پر کئی حلقوں میں یہ بات گردش میں تھی کہ انہیں حکومت کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔کئی سیاستدانوں نے ان کی موت پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ قاری زین الدین کے قتل سے علاقے میں خونریزی میں اضافہ ہوگا۔ ان کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں گلبدین نامی شخص کو نامزد اور بیت اللہ محسود پر ان کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ قاری زین الدین نے چند روز قبل میڈیا سے بات چیت کے دوران بیت اللہ محسود سے اختلافات کا کھل کراظہارکیاتھا۔

’’پہلے تو اس ظلم کے خلاف کوئی آوا ز اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا ابھی قوم کے مشیران علماء اور عام لوگ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ علاقے میں بیت اللہ محسود کی کاروائیاں ظلم کے برابر ہیں اور وہ ظالم ہیں ان لوگوں اورقوم کے مشیران میں 95 فیصد نے ہمیں تعاون کایقین دلایاہے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ وعدے بھی کیے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ ان کا گروپ پاکستان میں شہریوں کے خلاف کاروائی کوغیراسلامی تصور کرتے ہیں اور اسکی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اوریہاں اسلامی قوانین نافذ ہیں ہم قبائلی علاقوں اورعوام کی ترقی کے خواہاں ہیں۔‘‘

ادھر امریکی جاسوسی طیاروں نے جنوبی وزیرستان کے علاقہ لدھا کے ایک گاؤں میں شدت پسندں کے ایک گھر پر میزائل حملہ کیاہے اس حملے میں چھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں مذکورہ علاقہ جنوبی وزیرستان میں طالبان سربراہ بیت اللہ محسود کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ : فریداللہ خان، پشاور

ادارت : عاطف توقیر