1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قاہرہ میں فتح اور حماس کا مفاہمتی معاہدہ

اسرائیل کی مخالفت کے باوجود آج دونوں متحارب فلسطینی دھڑے فتح اور حماس مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک مفاہمتی معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں۔

default

حماس اور فتح کے نمائندے قاہرہ میں

آج بدھ کے روز ہونے والی اِس تقریب میں دنیا کے کئی اہم رہنماؤں سمیت حماس تنظیم کے رہنما خالد مشعل اور فلسطینی صدر اور الفتح تنظیم کے سربراہ محمود عباس شرکت کر رہے ہیں۔

فلسطینی تنظیموں حماس اور فتح کے درمیان ایک مشترکہ عبوری حکومت کی تشکیل پر اتفاق رائے گزشتہ مہینے ستائیس اپریل کو ہوا تھا۔ اس مصالحتی معاہدے کے بعد غزہ اور مغربی اردن میں الگ الگ حکومتوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور ایک سال کے اندر اندر نئےانتخابات کراوئے جائیں گے۔

اسرائیل نے ایسی کسی حکومت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے، جس میں حماس شریک ہو۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فلسطینی تنظیموں کے مصالحتی معاہدے سے ’’اسرائیلی فلسطینی امن عمل کو زبردست دھچکا لگا ہے‘‘۔

یروشلم میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر سے میٹنگ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا، ’’اُس حکومت کے ساتھ کس طرح امن معاہدہ کیا جا سکتا ہے، جس کا آدھا حصہ اسرائیل کی تباہی کا اعلان کر چکا ہو اور اسامہ بن لادن کی تعریف کرتا ہو‘‘۔

اسرائیل اور امریکی حکومت حماس کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس سے حماس کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب قاہرہ میں الفتح تنظیم کے وفد کے سربراہ اعظم الاحمد نے اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کو ’ناقابل قبول دخل اندازی‘ قرار دیا ہے۔

اعظم الاحمد کا مزید کہنا تھا کہ بدھ کو ہونے والے مصالحتی معاہدے کے بعد عبوری حکومت کے قیام کے لیے کوششیں تیز تر کر دی جائیں گی۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ فلسطینی دھڑے متحد ہوں اور یہ کہ وہ فلسطینی تننظیموں میں تقسیم کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

منگل کی رات خالد مشعل کا قاہرہ میں بیان دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مصالحتی معاہدے سے’’ایک نئے عرب اور فلسطینی دور‘‘ کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدے سے دنیا کو پتہ چلے گا کہ عرب دُنیا اور فلسطینی قوم امن کوششوں کے لیے پرعزم ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس تقریب میں شرکت کے لیے اپنا ایک سرکردہ خصوصی مندوب بھیجا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان مارٹن نیسر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار برائے مشرق وسطیٰ رابرٹ سری قاہرہ میں ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے۔ مارٹن نیسر کا مزید کہنا تھا، ’’اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ہمیشہ مصر اور صدر محمود عباس کی طرف سے کی جانے والی اتحاد کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ سن دوہزار سات میں حماس اور الفتح میں اختلافات انتہائی زیادہ ہو گئے تھے۔ ان اختلافات کے بعد حماس نے غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے وہاں اپنی علیٰحدہ حکومت قائم کر لی تھی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: امجد علی

DW.COM