قانون برائےتحفظِ خواتین سے مذہبی جماعتوں کا اختلاف | وجود زن | DW | 04.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

قانون برائےتحفظِ خواتین سے مذہبی جماعتوں کا اختلاف

اس سال فروری میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ملکی تاریخ کے سب سے ترقی پسندانہ قوانین پنجاب اسمبلی نے بنائے، جس میں دائیں بازو کی پاکستان مسلم لیگ (نواز شریف گروپ) کا غلبہ ہے۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جب کہ کئی جہادی و فرقہ وارانہ تنظیموں کے مرکزی دفاتر بھی یہیں قائم ہیں۔ خواتین کے خلاف متشدد جرائم بھی دیگر صوبوں کے ساتھ ساتھ اس صوبے میں بھی آئے دن ہوتے ہیں۔

اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لئے کچھ مہینے قبل حکومتِ پنجاب نے قانون برائے تحفظِ خواتین بنایا۔ اس قانون کے مطابق کوئی مرد اگر اپنی بیوی یا کسی اور رشتہ دار پر تشدد کرتا ہے اور اگر اُس سے عورت کی جان کو کوئی خطرہ بھی ہوسکتا ہے ، تو اسے 48 گھنٹوں کے لئے گھر سے نکالا جا سکتا ہے۔ تشدد کرنے والے کو ٹریکر بھی لگانا پڑیگا۔ اہلکار برائے تحفظ خواتین کسی بھی ایسے گھر میں داخل ہوسکتی ہیں، جہاں سے انہیں خواتین پر تشدد کے حوالے سے کوئی شکایت موصول ہوئی ہو۔ ایسے افسران کو روکنا یا ان کے کام میں مداخلت کرنے پر بھی سزا ہوگی۔ اس قانون کے تحت تشدد کی شکار کسی خاتون کو گھر سے باہرنہیں نکالا جاسکتا۔ اس قانون کے تحت پنجاب بھر میں مراکز برائے تحفظِ خواتین قائم کیے جائیں گے، جہاں تشدد کی شکار خواتین پناہ بھی لے سکتی ہیں۔

Projekt UN/SICHTBAR Ann-Christine Woehrl Nusrat aus Pakistan

پاکستان کی ایک ’ایسڈ وکٹم‘


بل کے منظور ہونے پر حقوقِ نسواں کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی کارکنان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن ملک کی تیس مذہبی جماعتوں کا اتحاد اس قانون پر چراغ پا ہوگیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس قانون پر آگ بگولہ ہوگئی۔ کونسل کے چیئرمین مولانا محمد شیرانی، جن کے بیانات اکثر و بیشترمتنازعہ ہوتے ہیں، نے فوراً اس بل کے خلاف حکم صادر کر دیا اور اسے غیر اسلامی قراد دے دیا۔ یہاں تک کہ کونسل کی واحد خاتون رکن سمیعہ راحیل قاضی نے بھی اس قانون کی بھر پور مخالفت کی ۔ DW سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ بل پاکستانی معاشرے کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش ہے۔ اسلام میں مرد کا عورت سے ذرہ زیادہ رتبہ ہے اور اس کی حیثیت منتظم کی طرح ہے لیکن اس قانون کے تحت نہ ہی کوئی باپ اپنی بیٹی کو کچھ کہہ سکتا ہے اور نہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے کوئی پوچھ گچھ کر سکتا ہے۔ ہمیں بل میں دی ہوئی گھریلو تشدد کی تعریف پر بھی سخت اعتراض ہے۔ ہمیں بل کی اس شق پر بھی اعتراض ہے جس کے تحت مرد کو دودن کے لئے گھر سے نکالا جا سکتا ہے۔ ہماری ثقافت میں یہ نہیں ہے کہ آپ خاوند کو گھر سے نکال دیں۔‘‘
پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم کی بھر مار ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2015 میں زنا بالجبر اور جنسی حملوں کے 900 واقعات ہوئے۔ گھریلو تشدد کے 279، جلائے جانے کے 143، اغواء کے 833 جب کہ خود کشی اور اقدامِ خود کشی کے 777 واقعات ہوئے۔ گھریلو تشدد اور جنسی جرائم میں سزا کی شرح بہت ہی کم رہی کیونکہ عموما خواتین یا تو ان مقدمات کو درج نہیں کراتیں یا دباؤ میں آکر مقدمات واپس لے لیتی ہیں۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے پنجاب میں کام کرنے والی رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ بخاری کمیشن کی رپورٹ کے مندرجات سے اتفاق کرتی ہیں۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان خواتین کے لئے تیسرا بڑا خطرناک ملک ہے۔’’خواتین کے خلاف جرائم عام ہیں، اسی لئے ہم نے اس قانون کو متعارف کرایا لیکن علماء اور اسلامی نظریاتی کونسل کے لوگوں نے اس کو پڑھے بغیر ہی اِس کی مخالفت شروع کردی۔‘‘

Pakistan Gewalt gegen Frauen Shahida

گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافے کے باوجود تحفظ نسواں کے بل پر مذہبی حلقوں کی طرف سے اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے


1973ء میں بننے والی اسلامی نظریاتی کونسل حالیہ برسوں میں اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے مرکزِ نگاہ رہی۔ پاکستان کے ایوانِ بالاسینیٹ کے کچھ ارکان نے تو اس کے خاتمہ کا بھی مطالبہ کیا۔ گزشتہ کچھ برسوں میں اسکے چیئرمین مولانا محمد شیرانی نے انتہائی متنازعہ بیانات دیے، جس میں انہوں نے زنا بالجبر کے مقدمات میں DNA ٹیسٹ کو غیر اسلامی قرار دیا، کم عمری کی شادی کا دفاع کیا، لڑکی کے لیے شادی کی عمر کے تعین کو غیر شرعی قرار دیا، مرد کی مرضی کے بغیرعورت کے حقِ طلاق کو غیر اسلامی کہا اور دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے اجازت کو غیر اسلامی قراردیا۔
کونسل میں بحیثیت رکن چھ سال خدمات انجام دینے والے مولانا فضل حقانی اپنے چیئرمین کے رجعت پسندانہ خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ حقانی کاتعلق افغان طالبان کی ہمدرد سمجھی جانے والی جمیعت علماء اسلام، فضل الرحمن گروپ سے ہے۔ انہوں نے DW کو اپنا موقف دیتے ہوئے کہا، ’’لڑکی کی شادی کی عمر کا تعین نہیں کیا جا سکتا، وہ جیسے ہی بلوغت کو پہنچتی ہے، اس کی شادی کی جاسکتی ہے، چاہے اس کی کوئی بھی عمر ہو۔‘‘
پنجاب اور سندھ نے لڑکی کی شادی کی عمریں بالتریب 16اور18سال متعین کی ہیں۔ مولانا شیرانی نے ان قوانین کی سخت مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر لڑکی بالغ ہو تو 9 سال کی عمر میں بھی اس کی شادی کی جا سکتی ہے۔
حقانی ،جو جے یوآئی کے نائب امیر ہیں، مخلوط نظامِ تعلیم کے سخت مخالف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خواتین کو سارے پیشوں میں کام کرنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے۔’’خواتین پائیلٹ یا خلا باز نہیں بن سکتیں۔ باہر جانے سے پہلے انہیں شریعی انداز میں اپنے آپ کو ڈھانپنا چاہیے۔ زنا بالجبرکی صورت میں متاثرہ عورت کا چار گواہ کو لانا لازمی ہے۔ یہ اسلامی قانون ہے۔ یہ شریعت کا فیصلہ ہے۔ DNA ٹیسٹ زنا بالجبر کے مقدمے میں قابل قبول نہیں ہے۔‘‘ حقانی مرد کے اس حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ عورت کی پٹائی کرے۔’’مرد عورت کی پٹائی کر سکتا ہے لیکن اس طرح کے نہ اس کو نشان آئے اور نہ زخم، یہ صرف نا پسندیدگی کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔‘‘
اب کونسل کو صرف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مخالفت کا سامنا نہیں ہے بلکہ کچھ ان کے اپنے بھی کونسل سے خفا نظر آتے ہیں۔ سی آئی آئی کے سابق رکن اور رہنما پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر اشرفی کہتے ہیں۔’’مولانا شیرانی 1960ء اور1970ء کی دہائی میں رہے ہیں۔ کونسل کو ایسے ارکان منتخب کرنے چاہیں، جو جدید دور کو سمجھتے ہوں اور عصرِ حاضر کے علوم سے واقفیت رکھتے ہوں۔ قانون برائے تحفظِ خواتین بہت مثبت ہے۔ ہمارے کچھ تحفظات تھے، جو دور کر دیے گئے ہیں۔‘‘
عظیٰ بخاری افسوس کرتے ہوئے کہتی ہیں،’’ مولویوں کی مخالفت کی وجہ سے اس بل کی تقدیر کا فیصلہ بیچ میں لٹکا ہوا ہے۔‘‘

DW.COM