قانون اور مذہب کے برخلاف ونی کی رسم جاری ہے | معاشرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قانون اور مذہب کے برخلاف ونی کی رسم جاری ہے

پاکستان میں حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے آواز اٹھانے کے باوجود کم عمر بچیوں کو ونی کرنے کی صدیوں پرانی رسم آج بھی چلی آرہی ہے۔

’میری زبردستی شادی کروا رہے تھے۔ میرا نکاح ہو گیا تھا، میرے ابو نے بات طے کی تھی۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس پر میرے چچا نے مارا تھا بہت۔ میرا کندھا ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے علاج بھی یہاں (دارالامان) سے کروایا۔ میں ڈر سے یہاں آگئی۔ امی مجھے یہاں لے کر آئی۔‘‘ یہ بتاتے ہوئے 15 سالہ لڑکی کی آواز بھرا گئی۔

نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی اس عمر کی لڑکیوں کی آنکھوں میں تو سہانے سپنے سجے ہوتے ہیں مگر سندھ کے ایک بڑے شہر کے دارالامان کے ایک خستہ کمرے میں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی اس لڑکی کی خوبصورت آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرے تھے۔

اُس کا کہنا تھا :’’جس سے میرا نکاح ہوا تھا وہ بھی مجھے مارتا تھا۔ شادی بھی نہیں ہوئی تھی تب بھی مجھے مارتا تھا۔ میری امی مجھے ایسی حالت میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس لیے وہ مجھے وہاں سے لے آئیں۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہاں آؤں گی۔‘‘اس نے بتایا کہ اس کے چچا کے بیٹے نے دوسری برادری کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔ دونوں برادریوں کے بڑوں کی پنچایت میں فیصلہ ہوا کہ قتل کرنے والے کے گھر سے ایک لڑکی کو متاثرہ خاندان کے کسی ایک شخص کے نکاح میں دیا جائے۔ صرف اسی شرط پر قاتل کے خلاف کاروائی نہیں کی جائے گی۔ چچا کی کوئی بیٹی نہیں ہے اس لیے 15برس کی اس لڑکی کا نکاح 40 برس کے نشے کے عادی آوارہ شخص سے طے کر دیا گیا۔

غریب اور کمزور باپ نے اپنے بھائی کے دباؤ میں آکر اپنی نو عمر بیٹی کو ونی کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ کچھ دن بعد رخصتی کے تقاضے شروع ہو گئے۔ کامیابی نہ ہوئی تو لڑکے نے لڑکی کو اکیلا پا کر اس پر اتنا تشدد کیا کہ وہ زخمی ہو گئی۔ آخر بیٹی کی حالت ماں سے دیکھی نہ گئی تو آمنہ کی ماں اسے لے کر پولیس اسٹیشن جا پہنچی۔ پولیس نے اس کے چچا کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے آمنہ اور اس کی والدہ کو

دارالامان بھیج دیا۔ جہاں وہ دو ماہ سے مقیم ہے۔

Pakistan Mädchen Zwangsheirat

ونی کے تشدد کی شکار لڑکیاں پاکستان کے روایتی اقدار پر قائم علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں

اس لڑکی کو ونی میں دینے پر مقدمے کی کاروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ دارالامان میں زندگی گزارنے کے بجائے وہ اپنے والد کےپاس واپس جانا چاہتی ہے۔ لیکن اسے اپنی جان کا خطرہ بھی ہے:’’اب میرے والد کہتے ہیں کہ لوٹ آؤ میں کچھ نہیں کروں گا۔ جہاں میرا نکاح ہوا انہوں نے مجھے الزام بھی دیا ہے۔ میرے والد اور ان کے بڑے میرا ذمہ لیں گے تو میں جاؤں گی، ورنہ مجھے خطرہ ہے۔ ڈر لگتا ہے بہت۔‘‘

اندرون سندھ، پنجاب اور پشتون علاقوں میں عرصہ دراز سے تنازعات نمٹانے، خون معاف کروانے یا دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے کم عمر بچیوں کی شادی مخالف گروہ یا فائدہ دینے والے کسی شخص سے طے کر دی جاتی ہے۔ اس غیر اسلامی اور غیر انسانی رسم کی ابتداء چار سو برس قبل ہوئی تھی جب دو پٹھان قبیلوں کے درمیان جنگ بندی کے لئے قصاص یا دیت کے طور پر لڑکیوں کے رشتے طے کرنے کی رسم کا آغاز ہوا اور تب سے یہ روایت ونی کے نام سے چلی آرہی ہے۔

کم سن بچیوں کی زبردستی شادی یا انہیں ونی کرنے کے گھناؤنے جرم کی روک تھام کے لیے ملک میں قانون موجود ہیں جو کسی بھی سولہ برس سے کم عمر لڑکی کی زبردستی شادی یا کسی بھی لڑکی کو ونی میں دینے کے خلاف ہیں۔ اس کے باوجود کم سن بچیوں کی شادیوں کے کیسیز میں کمی نہیں آسکی ہے ۔ پولیس مدد گار 15 کی ایک رپورٹ کے مطابق دو ہزار گیارہ کے صرف ابتدائی تین مہینوں میں بچیوں کی زبردستی شادی کے چھتیس جبکہ ونی میں دینے کے تئیس واقعات سامنے آئے۔

سکھر میں مددگار 15 کے دفتر میں قائم ویمن پولیس اسٹیشن کی SHO زہرا شاہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس ونی کے کافی علاقوں سے کیس آتے رہتے ہیں: ’’ہمارے پاس کافی ایسے کیسز یہاں آتے ہیں، حال ہی میں ایک برادری نے ایک بچی کی زبردستی شادی کروائی۔ شادی ہو کے جیسے ہی وہ گھر پہنچے ہمیں اطلاع ملی اور ریڈ کیا ہم نے۔ پندرہ سال کی لڑکی تھی جس کی شادی کی گئی تھی۔ ہم نے دولہا، قاضی اور دیگر شامل لوگوں پر ایف آئی آر درج کی۔ کیونکہ ہمارا قانون اور مذہب زبردستی شادی کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘

پاکستان میں بچیوں کو ونی کرنے یا جبری شادی کرنے کے خلاف اب سے کچھ عرصہ قبل قانون میں ترامیم کی گئی ہیں جس کے تحت ونی میں ملوث افراد کو کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ دس برس قید یا دس لاکھ روپے جرمانے تک کی سزا دینے کا قانون موجود ہے۔ اس کے باوجود صرف سندھ ہی نہیں ملک بھر میں بچیوں کو ونی کرنے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔

رپورٹ:عنبرین فاطمہ/کراچی

ادارت: کشور مصطفیٰ