1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قازقستان میں مذہبی پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور

وسطی ایشیا کے سب سے بڑے ملک قازقستان کے ایوان بالا نے جمعرات کو ایک بل منظور کیا جس کے تحت مذہبی گروپوں کے اندراج کے قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

default

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس سابق سوویت جمہوریہ میں مذہبی آزادیوں پر مزید قدغنیں عائد کرے گا۔

سینیٹ کے منظور کر دہ اس بل کے تحت بنیادی طور پر اس مسلمان ملک کی تمام موجودہ مذہبی تنظیمیں تحلیل ہو جائیں گی اور انہیں از سر نو اندراج کرانا ہو گا۔ اندراج کا عمل اتنا سخت ہے کہ اس سے بعض اقلیتی مسیحی تنظیموں سمیت بہت سے چھوٹے مذہبی گروپ اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

موجودہ صدر نور سلطان نذر بائیف سمیت مذہب سے متعلق نظر ثانی شدہ قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے مذہبی انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

رواں ہفتے سینیٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، ’’یہ بل ان مذہبی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرے گا جو خاندانوں کو تباہ کر رہی ہیں اور لوگوں کو اپنی املاک سے ان کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کر رہی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں شہریوں کی اخلاقی اقدار اور صحت کو تباہ کر رہی ہیں۔‘‘

رواں سال موسم گرما میں تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک میں اسلامی انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے بعد حکام میں اس حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ قازقستان میں بیشتر مسلمان زیادہ تر مذہب کے آزاد خیال فرقے کے پیروکار ہیں مگر قدامت پسندوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سوویت یونین کے لگ بھگ ستر سالہ دور میں مذ‌ہبی پابندیوں کے بعد اب باقاعدگی سے مساجد میں جانے والے مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت نے مذہبی سرگرمیوں کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

Nursultan Nasarbajew / Kasachstan / Präsident

قازقستان کے صدر نور سلطان نذر بائیف نے پارلیمان پر زور دیا تھا کہ مذہبی گروپوں پر کنٹرول رکھنے کے سخت اقدامات متعارف کرائے جائیں

یہ بل صدر نور سلطان نذر بائیف کے دستخط ہونے کے بعد قانون بن جائے گا۔ یہ صرف ایک رسمی کارروائی ہو گی کیونکہ صدر خود رواں ماہ کے اوائل میں پارلیمان پر زور دے چکے ہیں کہ مذہبی گروپوں پر کنٹرول رکھنے کے سخت اقدامات متعارف کرائے جائیں۔

ناقدین نے پارلیمان میں عجلت میں پیش کیے جانے والے اس بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں قانون سازی سے قبل عوامی مشاورت نہیں کی گئی۔

اس قانون کے تحت اندراج سے قبل مذہبی گروپوں کے اراکین کی ایک مخصوص تعداد ہونا ضروری ہے۔ مقامی سطح پر اندراج کے لیے یہ تعداد 50 اراکین ہونی چاہیے جبکہ صوبائی سطح پر گروپ میں کم از کم 500 اراکین ہونے چاہئیں۔ اس میں سب سے زیادہ پیچیدہ طریقہ کار قومی سطح پر اندراج کا ہے جس کے لیے کم از کم  5,000 اراکین کی تعداد ضروری ہے جو ملک کے تمام خطوں کی نمائندگی کرتے ہوں۔

واشنگٹن میں موجود جمہوریت کے نگران ادارے فریڈم ہاؤس نے بل کی منظوری سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ بہت سے اقلیتی مذہبی گروپوں کے پاس اراکین کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں اور انہیں اپنی سرگرمیاں ترک کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

قانون کی دیگر شقوں میں تبلیغی سرگرمیوں کی سخت نگرانی، مذہبی مواد اور متن پر حکومت کی نظر ثانی اور عبادت گاہوں سے متعلق قواعد شامل ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM