1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قادری کو سزا ملنی چاہیے، مشرف

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ توہین رسالت سے متعلق ملکی قانون میں کوئی ترمیم نہ کی جائے مگر پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ گفتگو میں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کا قانون پاکستانی عوام کے لیے ایک انتہائی حساس موضوع ہے اور اسی وجہ سے اس قانون کو نہ تو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم ضروری ہے۔

پرویز مشرف کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون میں ترمیم کی بجائے اس کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ لندن میں اپنے گھر سے یہ انٹرویو دیتے ہوئے پرویز مشرف نے یہ بھی کہا کہ ممتاز قادری ایک مجرم ہے اور اس کے خلاف ہر صورت میں مقدمہ چلایا جائے جس کے بعد اسے سزا بھی ملنی چاہیے۔

کئی سال تک پاکستان میں سربراہ مملکت کے عہدے پر فائز رہنے والے ملکی فوج کے اس سابق سربراہ کے بقول ایسے کئی قوانین، جو جنرل ضیا کے دور میں منظور کیے گئے تھے، اُن پر خود مشرف دور میں نظرثانی کی گئی تھی، جن میں متنازعہ حدود آرڈیننس بھی شامل تھا جس میں جزوی طور پر ترمیم کی گئی تھی۔

Musharraf bei der Volksabstimmung in Pakistan

فائل فوٹو: دو ہزار دو میں ہونے والے ریفرینڈم میں پرویز مشرف اپنی اہلیہ کے ہمراہ

مستقبل میں اپنی پاکستان واپسی سے متعلق مشرف کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر پاکستان نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا، ’’میں پاکستان میں پہلے اپنی پارٹی کو مستحکم بنانا چاہتا ہوں۔ میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ فوری طور پر ایک ٹکٹ خریدوں، اپنا سوٹ کیس بند کروں اور اسلام آباد پہنچ جاؤں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ الیکشن سے پہلے ہر صورت میں پاکستان جائیں گے۔

ریٹائرڈ جنرل مشرف نے اپنے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ان کی سیاسی پارٹی سے متعلق بہت سی سیاسی شخصیات نے ان سے ملاقاتیں کی ہیں اور کئی سیاستدانوں سے ان کی ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے۔ ’’جو کوئی بھی اس جماعت میں شامل ہونا چاہے یا اتحادی بننا چاہے، اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔‘‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستانی سیاست میں پرانے چہروں کے کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے اور اکثر واقعات میں ایسی شخصیات کو اپنی کامیابی کے لیے نئے اتحادیوں کی ضرورت ہو گی۔

سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں افغان طالبان کے خلاف امریکہ کی طرف سے ’بہت سخت کارروائی‘ نہ کیے جانے پر واشنگٹن حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 2002ء سے 2004ء تک مغربی دنیا کے پاس وقت تھا کہ وہ افغانستان میں اور اس ملک کے مسائل کا کوئی سیاسی حل تلاش کرتی۔

اپنے اس انٹرویو میں پرویز مشرف نے اسلام آباد کے نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا کہ سن 2007 میں بھارت کے ساتھ مل کر امن کے لیے کشمیر سے متعلق بنایا گیا روڈ میپ ابھی تک قابل عمل ہے اور اس کے تحت کسی بھی وقت نئی پیش رفت اصولی طور پر ممکن ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM