1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'قاتل ٹیم' کے اقدامات سے امریکیوں کی آنکھیں کُھل جانی چاہییں۔

افغان صدر کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں افغان شہریوں کی ہلاکت سے امریکی عوام کی آنکھیں کھل جانی چاہییں اور امریکی عوام کو اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ کیسے ان کی فوج افغانستان میں جنگی جرائم میں ملوث ہے۔

default

جرمنی کے نیوز میگزین دیراشپیگل اور رولنگ اسٹون میگزین نے گزشتہ دنوں’ کِل ٹیم‘ کے نام سے امریکی عسکری یونٹ کی تصاویرشائع کی ہیں۔ ان تصاویر میں اس ٹیم سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے افغان شہریوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

افغان صدر کے مطابق ان واقعات کی تفصیل اور تصاویر بہت ہی تکلیف دہ اور گھناؤنی ہیں، ’’اس بارے میں بات کرتے ہوئے اس بارے میں کی گئی مذمت نہیں دہرانا چاہتا، تاہم یہ ضروری ہے کہ اس حوالے سے دنیا کے شعور کو جھنجوڑا جائے۔‘‘

Afghanistan, ein Afghane auf dem Fahrrad

افغان صدر کی جانب سے امریکی افواج پرجنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے

رولنگ اسٹون نامی جریدے کے مطابق گزشتہ برس کے آغاز میں افغان صوبہ قندھار میں تعینات امریکی فوجیوں میں سے بعض نے ایک نوجوان لڑکے اور ایک بڑی عمر کے مرد کو ان کے گاؤں میں قتل کردیا۔ جس کے بعد ان فوجیوں نے اس واقعے کو اس طرح پیش کرنے کی کوشش کی جیسے انہوں نے یہ اقدام اپنے دفاع میں کیا ہو۔

اس میگزین نے ان واقعات کے بارے میں مختلف تصاویر شائع کی ہیں، جن میں فوجیوں کو مسخ شدہ لاشوں کے ساتھ غصے کا اظہار کرتے ہوئے تصاویر بنواتے دکھایا گیا ہے۔ ان فوجیوں پر ہلاک شدگان کی انگلیاں کاٹ کر بطور یادگار اپنے پاس رکھنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

Schwulenhetze in den Zeitungen

امریکی جریدے رولنگ اسٹون نے ان تصاویر کو شائع کیا ہے

حامد کرزئی کے مطابق، ’’ امریکی لوگ بھی افغان عوام کی طرح اچھے لوگ ہیں، وہ بہت سنگدل نہیں بلکہ بہت رحم دل ہیں۔ لہذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آواز امریکہ کے عام لوگوں تک پہنچے کہ ان کے نام پر ہمارے 15 سالہ نوجوان اور بزرگ کے ساتھ اس قدر سنگدلانہ سلوک کیا گیا اور وہ بھی ان کے خاندان کے سامنے۔‘‘

میگزین کی طرف سے امریکی فوج پر بھی یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کی تاکہ افغانستان اور امریکہ میں اس کے خلاف ہونے والے ردعمل سے بچا جاسکے۔

افغانستان میں اس وقت ایک لاکھ 40 ہزار غیرملکی فوجی تعینات ہیں، جن میں سے دوتہائی کا تعلق امریکہ سے ہے۔ نیٹو کی زیرکمان فوجی آپریشن کا اختتام سال 2014ء میں طے ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM