1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

قابل تجدید ذرائع سے توانائی، ریکارڈ حد تک عالمی سرمایہ کاری

گزشتہ برس قابل تجدید ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کے لیے ریکارڈ دو سو چھیاسی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس شعبے میں نصف سے زائد سرمایہ کاری ترقی یافتہ نہیں بلکہ ترقی پذیر ملکوں نے کی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار چار کے بعد سے قابل تجدید ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کے شعبے میں دو اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے پروگرام برائے ماحولیات ( یو این ای پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آخم اسٹائنر کا کہنا تھا، ’’ہمارے کم کاربن کے استعمال والے طرز زندگی میں قابل تجدید ذرائع مرکزی اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ سن دو ہزار پندرہ میں ترقی پذیر ممالک کی سرمایہ کاری ترقی یافتہ سے زیادہ تھی۔‘‘

رپورٹ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ چین اور بھارت کی بدلتی ہوئی پالیسیاں ہیں اور دونوں ملکوں نے صاف توانائی کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ بلومبرگ نیو انرجی فنانس کے ایڈوائزی بورڈ کے سربراہ مشائل لیبرائش کا کہنا تھا، ’’ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں روایتی کی بجائے قابل تجدید ذرائع کی طرف تیزی سے منتقلی اس شعبے میں کم ہوتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔‘‘

اس رپورٹ کے مطابق گزشہ برس سورج کی روشنی اور ہوا کے ذریعے یعنی پون چکیوں اور سولر پینلز کے ذریعے ایک سو اٹھارہ گیگا واٹ توانائی پیدا کی گئی، جو کہ سن دو ہزار چودہ کے مقابلے میں ایک چوتھائی زیادہ تھی۔ ہوا کے ذریعے باسٹھ گیگا واٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ سورج کی روشنی سے چھپن گیگا واٹ توانائی حاصل کی گئی۔

ان دو بڑے ذرائع کے علاوہ جن نئے اور قابل تجدید ذرائع سے توانائی حاصل کی گئی ان میں بائیو ماس، جیوتھرمل، سولر تھرمل اور کوڑے کرکٹ سے بجلی حاصل کرنا شامل ہیں۔ رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی حاصل کرنے کے روایتی طریقوں سے قابل تجدید ذرائع کی طرف منتقلی سے اس شعبے کے’بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی‘ واقع ہو رہی ہے۔ لیکن عالمی معیشت کو ’کاربن نیوٹرل‘ بنانے کی وہ منزل، جس پر پیرس میں اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں اتفاق کیا گیا تھا، فی الحال ابھی بہت دور ہے۔

پیرس میں طے پانے والے ماحولیاتی معاہدے پر دنیا کے ایک سو پچانوے ملکوں نے دستخط کیے تھے اور اس میں عالمی درجہٴ حرارت کو دو سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس شعبے میں گزشتہ برس سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین نے کی، جو کہ ایک سو تین ارب ڈالر تھی۔