قابل تجدید توانائی، ایک کروڑ افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ | سائنس اور ماحول | DW | 27.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

قابل تجدید توانائی، ایک کروڑ افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ

توانائی کے قابل تجدید ذرائع جن سے اس وقت دنیا بھر میں 9.4 ملین افراد کا روزگار وابستہ ہے، عالمی افرادی قوت کے لیے روزگار کی مشین ثابت ہو رہے ہیں۔ اس شعبے میں روزگار کے نئے مواقع میں چین، برازیل اور امریکا بہت آگے ہیں۔

Solarpark in China

شمسی توانائی کے شعبے میں روزگار کے حوالے سے چین دنیا بھر میں سب سے آگے ہے

قابل تجدید توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی IRENA کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ماحول دوست توانائی کے ذرائع کو دی جانے والی ترجیح کا ایک واضح نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں 9.4 ملین انسانوں کا روزگار انہی ذرائع سے جڑا ہوا ہے۔

ان میں سے بھی 8.1 ملین سے زائد کارکن شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے، بائیو انرجی اور ’جیوتھرمی‘ جیسے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس شعبے میں روزگار کے مواقع میں 2014 اور 2015 کے درمیان عالمی سطح پر پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ مزید قریب 1.3 ملین انسان مختلف ملکوں میں ہائیڈل پاور ورکس یا پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کرتے ہیں، جن میں ڈیموں کی تعمیر، انہیں فعال رکھنا اور بجلی کی پیداوار کے لیے پانی کے وسیع ذخائر کی دیکھ بھال کے شعبے شامل ہیں۔

قابل تجدید توانائی کی عالمی تنظیم ’اِیرینا‘ کے ڈائریکٹر جنرل عدنان امین نے دبئی میں اپنے ادارے کی تازہ ترین رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع ایک ایسا شعبہ ہیں، جس میں روزگار کے مسلسل نئے مواقع نے اسے عالمی افرادی قوت کے لیے ’روزگار کی مشین‘ بنا دیا ہے۔

عدنان امین کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر ایک تاثر یہ بھی ہے کہ قابل تجدید توانائی کا شعبہ اقتصادی حوالے سے روزگار کی منڈی کے لیے اب پہلے جتنا سود مند ثابت نہیں ہو رہا۔ ان کے بقول اس شعبے کے تازہ ترین عالمی اعداد و شمار اس رجحان کی نہ صرف نفی کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید امید پسندی کی وجہ بھی ہیں۔

Windpark Nordsee Ost

جرمنی کے شمال میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے سمندر میں لگائی گئی تنصیبات

اس انٹرنیشنل ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے صحافیوں کو بتایا کہ عالمی سطح پر توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر انحصار کے رجحان میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ توانائی کی ایسی ماحول دوست تنصیبات پر اٹھنے والی لاگت آج ماضی کے مقابلے میں کافی کم ہو چکی ہے اور پھر ایسی تنصیبات کے حق میں کیے جانے والے اقتصادی فیصلوں کو ممکن بنانے کے لیے سیاسی حالات کار بھی بہت بہتر ہو چکے ہیں۔

عدنان امین نے کہا کہ گرین انرجی کے حصول کے لیے یہ رجحان آئندہ بھی نہ صرف جاری رہے گا بلکہ زیادہ سے زیادہ ملکوں میں ماحول دوست توانائی کے سلسلے میں ایسی پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے، جو پیرس میں طے پانے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے میں طے کردہ اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو گی۔

اس وقت قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ کارکنوں کا روزگار شمسی توانائی سے وابستہ ہے۔ ان کارکنوں کی تعداد 3.7 ملین بنتی ہے۔ ان میں سے بھی گزشتہ برس کے دوران 2.8 ملین افراد اس شعبے کے کل وقتی کارکن تھے۔

IRENA کی رپورٹ کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر جن ملکوں میں ماحول دوست توانائی کے شعبے سے سب سے زیادہ افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے، ان میں پہلے نمبر پر سب سے زیادہ آبادی والا ملک چین ہے۔ چین میں اس شعبے کے کارکنوں کی مجموعی تعداد قریب 1.7 ملین بنتی ہے۔

چین کے بعد پونے چار لاکھ سے زائد کارکنوں کے ساتھ جاپان دوسرے، قریب دو لاکھ افراد کے ساتھ امریکا تیسرے اور سوا لاکھ سے زائد کارکنوں کے ساتھ بنگلہ دیش چوتھے نمبر پر ہے۔ بہت حوصلہ افزا بات یہ بھی ہے کہ صرف بنگلہ دیش کے دیہی علاقوں میں گزشتہ برس ایسے قریب سات لاکھ ’سولر ہوم سسٹم‘ فروخت ہوئے، جن کی مدد سے لوگوں نے توانائی کی اپنی روزانہ ضروریات کو قابل تجدید ذرائع سے پورا کرنا شروع کیا۔ ان میں سے بھی لاکھوں بنگلہ دیشی شہری ایسے تھے، جنہیں ایسے ذرائع کی مدد سے لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ بجلی استعمال کرنے کا موقع ملا۔

اسی طرح دنیا کے جن تین ملکوں میں گزشتہ برس ماحول دوست توانائی کے شعبے میں روزگار کے سب سے زیادہ نئے مواقع پیدا ہوئے، وہ ملک چین، بھارت اور برازیل تھے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کو توقع ہے کہ عالمی سطح پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں روزگار کے مواقع آئندہ برسوں میں مزید بڑھیں گے اور 2030 تک اس اقتصادی شعبے کے کارکنوں کی مجموعی تعداد 24 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔

DW.COM