1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیکٹری کی چھت گرنے سے 16 افراد ہلاک، سو سے زائد ملبے تلے

لاہور کے نواحی علاقے رائےونڈ کے قریب سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک چار منزلہ فیکٹری کی چھت گرنے سے فیکٹری کے مالک سمیت سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ حکام نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق اب تک ملبے تلے دبے پینسٹھ افراد کو نکال کر مختلف ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ ابھی بھی ایک سو سے زائد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

لاہور کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر محمد عثمان نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ حادثہ بہت بڑا ہے کیونکہ حادثے کے وقت پولی تھین بیگ بنانے والی اس فیکٹری میں 150 سے زائد افراد موجود تھے۔

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے امدادی کارروائیوں کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ فوج کی انجینئرنگ کور کے جوان، ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور امدادی اداروں کے اہلکار ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملبے تلے دبے افراد میں بچے بھی شامل ہیں۔

لاہور کے تمام ہسپتالوں میں اس وقت ہائی الرٹ ہے جبکہ جناح ہسپتال میں چھٹی کرکے جانے والے ڈاکٹروں کو بھی واپس ہسپتال طلب کر لیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے لاہور ڈویژن کے تمام علاقوں سے امدادی کارکنوں کو فوراﹰ جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

چھت گرنے سے چار منزلہ عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے جبکہ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی طرف سے اس واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے زخمیوں کو ہر ممکن طبیّ امداد دینے اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ پاک فوج کا اربن سرچ اور ریسکیو کا خصوصی دستہ بھی خصوصی جہاز سے راولپنڈی سے لاہور پہنچ چکا ہے۔ پاک فوج کی انجینئیرنگ کور کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔

اس وقت جائے حادثہ پر قیامت کا سا سماں ہے جبکہ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کے عزیز و اقارب بھی وہاں پہنچ چکے ہیں۔ اندھیرے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی تھی، ہنگامی طور پر جنریٹروں کا بندوبست کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسےواقعات مختلف حکومتی اداروں کی غفلت اور نا اہلی کا نتیجہ ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق فیکٹری کی چھت پر غیر قانونی تعمیرات جاری تھیں۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے اور جائے حادثہ پر موجود ایک نوجوان شہباز منج نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ اس فیکٹری کا نام راجپوت پولی تھین بیگ فیکٹری تھا جبکہ اس میں درجنوں مزدور بھی رہائش پذیر تھے۔ فیکٹری کی تعمیر بھی ناقص تھی اور اسے حالیہ زلزلے سے بھی نقصان پہنچا تھا۔ خستہ حال فیکٹری پر مزید تعمیر بھی جاری تھی۔‘‘

ان کے مطابق فیکٹری میں موجود مشینوں کی وجہ سے بھی عمارت میں ارتعاش سی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی۔ ان کے بقول اس فیکٹری میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدور مقامی نہیں تھے، ’’بہت سے مزدور فیکٹری مالک کی غفلت اور لالچ کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘‘

اس وقت جائے حادثہ پر ضلعی انتظامیہ اور پنجاب حکومت کے ذمہ داران بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریسکیو آپریشن کئی گھنٹے تک جاری رہے گا۔