1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

فیول سیل سے اڑنے والا پہلا ہوائی جہاز

جرمن شہر ہیمبرگ کے سائنسدانوں نے فیول سیل کی مدد سے اڑنے والا ایک ایسا ہوائی جہاز تیار کیا ہے جو نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضا کو آلودہ بھی نہیں کرتا۔

default

انتارس ہیمبرگ کے اوپر پرواز کرتا ہوئے

عالمی مالیاتی بحران سے متاثر ہونے والے شعبوں میں ہوا بازی کی صنعت بھی شامل ہے۔ فضائی کمپنیوں نے بحران کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے ہرممکن بچت کرنا شروع کر دی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مسافروں کی تعداد میں کمی نے اس صنعت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ فیول سیل سے چلنے والے اور بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والے ہوائی جہازوں کے تجربات تو پہلے سے جاری تھے مگر پائلٹ کے ساتھ اور فیول سیل کی مدد سے پرواز کرنے والے دنیا کے پہلے ہوائی جہاز کی اولین فلائٹ کا تجربہ گذشتہ دنوں شمالی جرمن شہر ہیمبرگ میں کیا گیا۔ یہ جہاز نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضا کو آلودہ بھی نہیں کرتا۔

اس جہازکو انتارس کا نام دیا گیا ہے۔ پہلی نظرمیں انتارس ایک عام سا گلائیڈرجہاز دکھائی دیتا ہے۔ خلائی اور فضائی سفر کے جرمن ادارے کے مطابق اس ہوائی جہاز کی خاص بات یہ ہے کہ اس سے ضرر رساں گیسوں کا اخراج نہیں ہوتا اوردیگر جہازوں کے مقابلے اس سے شور بھی کم پیدا ہوتا ہے۔

انتارس کو بنانے کا کام 2008ء میں شروع کیا گیا تھا۔ ابتداء میں اس پر پانچ افراد نے کام کیا اور بعد میں اس منصوبے پرکام کرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی تھی۔

Strömungsbild Antares Flash-Galerie

فیول سیل توانائی کو ذخیرہ کرنے والا ایک ایسا نظام ہے جس کی وجہ سے فضا میں آلودگی نہیں پھیلتی۔ اس جہاز میں عام انجن کی بجائے بجلی سے چلنے والے انجن لگے ہیں جو دونوں پروں کے نیچے نصب ہیں۔ ان انجنوں کو توانائی پہنچانے کے لئے ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ایک خاص کیمیائی طریقے سے ملایا جاتا ہے جس سے وہ توانائی پیدا ہوتی ہے جو پرواز کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

انتارس کو ٹیک آف کرنے کے لئے 95 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار درکار ہوتی ہے۔ اس کی موٹر، ہائیڈروجن فیول سیلز سے توانائی حاصل کرتی ہے۔ انتارس تیار کرنے والے جرمن ادارے نے بتایا کہ یہ جہازفیول سیل کے استعمال کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج نہیں کرتا اوراپنی طرز کے چھوٹے جہازوں کے مقابلے میں شور بھی بہت کم پیدا کرتا ہے۔ جرمنی کے تھرمو ڈائنامک انسٹیٹیوٹ کےHans-Müller Steinhagen کے مطابق اس جہاز کا انجن توانائی کے استعمال کو کم رکھنے میں بہت مددگار ہے۔

انتارس کا وزن ایک چھوٹی کار کے برابر ہے۔ 750 کلومیٹر تک کا سفر طے کرسکنے والا یہ ہوائی جہاز پانچ گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے۔ فیول سیل اورپائلٹ کی مدد سے پرواز کرنے والا دنیا کا یہ پہلا ہوائی جہاز اپنی تجرباتی پرواز کے دوران آٹھ منٹ تک فضا میں رہا۔

ملتے جلتے مندرجات