1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فیفا کے صدارتی انتخابات: محمد بن حمام دستبردار

ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے قطر سے تعلق رکھنے والے سربراہ محمد بن حمام نے فیفا کی صدارت کے امیدوار کے طور پر اپنا نام واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیڈریشن کا نیا صدر بدھ کو منتخب کیا جائے گا۔

default

محمد بن حمام

محمد بن حمام کی جانب سے اس اعلان کے تناظر میں فٹ بال کی بین الاقوامی تنظیم فیفا کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔

اکسٹھ سالہ بن حمام کے خلاف فیفا کا ایک کمیشن رشوت لینے کے الزام میں تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان اپنی وَیب سائٹ پر کیا ہے۔

اس بیان میں انہوں نے کہا: ’میں نے فیفا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیونکہ میں فیفا میں تبدیلی کا خواہاں تھا اور اب بھی ایسا ہی چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’تاہم حالیہ واقعات سے میرے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور میں مایوس ہوا ہوں، پیشہ ورانہ سطح پر بھی اور ذاتی حیثیت میں بھی۔’

بن حمام نے کہا کہ جن مقاصد پر وہ یقین رکھتے تھے، ان کے لیے کھڑے ہونے کی انہیں فیفا کی بدنامی کی صورت بھاری قیمت چکانا پڑی، جس کا انہیں دکھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’جس نام کو میں اتنا چاہتا ہوں ، اسے دو لوگوں کے مقابلے کی وجہ سے بدنام نہیں ہونے دوں گا۔ کھیل اور دنیا بھر میں اسے چاہنے والوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس لیے میں صدر کے عہدے کے انتخابات سے دستبردار ہو رہا ہوں۔‘

Flash-Galerie Fussballrückblick 2010

جوزیف بلاٹر

بتایا گیا ہے کہ بن حمام نے فیفا کا صدر منتخب ہونے کے لیے ووٹ خریدنے کی کوشش کی تھی۔‍ ایک اور الزام یہ ہے کہ 2022ء کی عالمی فٹ بال چیمپئن شپ کی میزبانی اپنے ملک قطر کو دلوانے کے لیے اُنہوں نے فیفا کے ووٹ ڈالنے کے حقدار نمائندوں کو رشوت دی تھی۔

بن حمام آئندہ بدھ کو فیفا کے موجودہ صدر جوزیف بلاٹر کے مقابلے پر آنا چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ بلاٹر اور فیفا کے نائب صدر جیک وارنر کے خلاف بھی رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ فیفا کے الزامات کا سامنا کرنے والے یہ تینوں عہدیدار اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں فیفا کے کمیشن کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔

بن حمام کی درخواست پر بلاٹر بھی فیفا کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس