1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فیفا کے خلاف الزامات، پوٹین کا دفاع

فٹ بال ورلڈ کپ 2018ء اور 2022ء کے میزبان ملکوں کے انتخاب کے لئے ووٹنگ آج ہو رہی ہے جبکہ روسی وزیر اعظم نے انگلینڈ پر فیفا حکام کے خلاف مہم کے ذریعے روس سے ورلڈ کپ 2018ء کی میزبانی کا حق چھیننے کا الزام عائد کیا ہے۔

default

روسی وزیراعظم ولادیمیر پوٹین

روسی وزیراعظم ولادیمیر پوٹین نے ایک بیان میں کہا کہ فیفا کی 22 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی پر اپنے ملک کو میزبانی کا حق دلوانے کے لئے دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے، اس لئے وہ جمعرات کو زیورخ میں ہونے والے ووٹنگ کے مرحلے سے دُور رہیں گے۔ انہوں نے کمیٹی کے کردار کو سراہا بھی ہے۔

روس کو فٹ بال ورلڈ کپ 2018ء کی میزبانی کے لئے فیورٹ ممالک میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جس نے سے اس سے پہلے کبھی کسی فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی نہیں کی۔

اسی برس اس کھیل کے عالمی کپ کی میزبانی کے حقوق کے حصول کے لئے انگلینڈ نے بھی درخواست دے رکھی ہے جبکہ سپین۔ پرتگال اور ہالینڈ۔ بیلجیم نے مشترکہ درخواستیں جمع کرائی ہیں۔

Fifa Skandal Joseph Blatter Fußball

فیفا کے سربراہ جوزف بلیٹر

تاہم پوٹین نے اپنے بیان میں انگلینڈ کا واضح حوالہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ برطانوی ذرائع ابلاغ میں فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی پر بدعنوانی کے الزامات کا مقصد ووٹنگ کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے اپنی کابینہ سے گفتگو میں کہا، ’ہمیں یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ فیفا ایگزیکٹو کمیٹی کے خلاف واضح مہم چلائی جا رہی ہے۔‘

روسی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان ارکان کو یوں بدنام کر کے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے غیرمنصفانہ مقابلے کی فضا قائم ہوگی۔ ان کا کہنا تھا، ’ہمارے خیال میں مقابلہ بازی کے یہ طریقے قطعی ناقابل قبول ہیں۔‘

ولادیمیر پوٹین نے کہا کہ وہ ووٹنگ کے روز زیورخ جانے کی خواہش رکھتے تھے لیکن فیفا کے عہدے داروں کو کسی طرح کے غیر واجب دباؤ سے بچانے کے لئے انہوں نے وہاں نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ واضح رہےکہ یہ ووٹنگ خفیہ ہوتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے پیر کو ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ فیفا کی ایگزیکٹوکمیٹی کے تین ارکان قریب دس برس قبل ووٹنگ کا عمل متاثر کرنے کے لئے ایک مارکیٹنگ فرم سے رقوم حاصل کر چکے ہیں۔ دو ہفتے قبل برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں ایسی ہی ایک رپورٹ شائع ہونے پر فیفا نے کمیٹی کے دو ارکان کو معطل کر دیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس