1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فیفا کا فیصلہ: بلاٹر کلیئر، بن حمام معطل

فیفا کے کمیشن برائے اخلاقیات نے بدعنوانی کے الزامات پر فیڈریشن کے صدارتی امیدوار محمد بن حمام اور نائب صدر جیک وارنر کو معطل کر دیا ہے۔ فیفا کے صدر سیپ بلاٹر کو کلیئر قرار دیا گیا ہے۔

default

محمد بن حمام

ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے قطر سے تعلق رکھنے والے سربراہ محمد بن حمام، سیپ بلاٹر اور جیک وارنر اتوار کو فیفا کے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ اس کمیشن کی قیادت نمیبیا کے Petrus Damaseb نے کی۔

انہوں نے کہا: ’بن حمام اور وارنر، دونوں پر مستقبل میں فٹ بال کی کسی سرگرمی میں حصہ لینے پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان دونوں کو اپنا دفاع کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

کیریبیئن فٹ بال یونین (سی ایف یو) کے دو ارکان دیبی منگوئل اور جیسن سلویسٹر کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ انہیں بن حمام کے ساتھ سازش میں ملوث قرار دیا جاتا ہے۔

بلاٹر نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا: ’فیفا کی کمیٹی برائے اخلاقیات اپنے فیصلوں پر پہنچ گئی ہے۔ میں اس پر تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ کچھ دِنوں اور ہفتوں میں جو ہوا، مجھے اس پر افسوس ہے۔‘

فیفا کے سیکرٹری جنرل Jerome Valcke کا کہنا ہے کہ اس فیڈریشن کے صدارتی انتخابات شیڈول کے مطابق یکم جون کو ہی ہوں گے۔

واضح رہے کہ بلاٹر اور فیفا کے نائب صدر جیک وارنر کے خلاف رشوت کے الزامات عائد کیے گئے تھے جبکہ بن حمام پر الزام تھا کہ انہوں نے فیفا کا صدر منتخب ہونے کے لیے ووٹ خریدنے کی کوشش کی تھی۔‍ ایک اور الزام یہ تھا کہ 2022ء کی عالمی فٹ بال چیمپئن شپ کی میزبانی اپنے ملک قطر کو دلوانے کے لیے اُنہوں نے فیفا کے ووٹ ڈالنے کا حق رکھنےو الے نمائندوں کو رشوت دی تھی۔

Jack Warner FIFA

جیک وارنر

انہوں نے ہفتہ کو فیفا کی صدارت کے امیدوار کے طور پر اپنا نام واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس حوالے سے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ’میں نے فیفا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیونکہ میں فیفا میں تبدیلی کا خواہاں تھا اور اب بھی ایسا ہی چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا تھا: ’تاہم حالیہ واقعات سے میرے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور میں مایوس ہوا ہوں، پیشہ ورانہ سطح پر بھی اور ذاتی حیثیت میں بھی۔’

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس