1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فیفا ورلڈ کپ: پہلا اپ سیٹ، فیورٹ سپین کو شکست

فٹ بال ورلڈ کپ میں گروپ سٹیج کے پہلے مرحلے کے تمام میچ مکمل ہونے کے بعد دوسرا راؤنڈ شروع ہو گیا ہے۔ پہلے راؤنڈ میں مضبوط ہسپانوی ٹیم کی شکست کو اب تک کا سب سے اہم اپ سیٹ قرار دیا گیا ہے۔

default

گیلسن فرنانڈس گول کرنے کے بعد

ماہرین کے خیال میں عالمی فٹ بال چیمپیئن شپ میں مہمان ٹیموں کو اگلے دنوں میں موسم کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں ان دنوں شام ہوتے ہی موسم میں خنکی بڑھنے لگی ہے۔ مقامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس خنکی کا فائدہ یقینی طور پر یورپی ٹیموں کو ہوگا ۔ موسمی تغیر سے لاطینی امریکی ملکوں کی ٹیموں کو پریشانی ہو سکتی ہے۔ ورلڈ کپ کے دوسرے راؤنڈ کے میچوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس کے مکمل ہونے پر ناک آؤٹ سٹیج یا پری کوارٹر فائنل مرحلے کے لئے ٹیموں کے نام واضح ہونا شروع ہو جائیں گے۔

جنوبی افریقہ بمقابلہ یوروگوائے

میزبان جنوبی افریقہ کو یوروگوائے سے گروپ اے کے دوسرے راؤنڈ کے میچ میں صفر کے مقابلے میں تین گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہارنے کے بعد اب اس پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ گروپ اے کے آخری میچ میں بڑے فرق سے کامیابی ضرور حاصل کرے ورنہ میزبان ٹیم کا ورلڈ کپ اسی سٹیج پر ختم ہو سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کا آخری میچ فرانس کے ساتھ ہے۔

یورو گوائے کی تین گول سے فتح کے بعد اب وہ گروپ اے کا لیڈر بن گیا ہے۔

WM Südafrika 2010 Spanien vs Schweiz Flash-Galerie

اسپین اورسوئٹزر لینڈ کے درمیان ہونے والے میچ کا ایک منظر

اس کے پری کوارٹر فائنل میں رسائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ یورو گوائے کی جانب سے دو گول ڈیگو فورلان نے کئے۔ میچ کے دوران جنوبی افریقہ کے مرکزی گول کیپر Itumeleng Khune کو خطرناک فاؤل پر ریفری نے سرخ کارڈ دکھا کر باہر کردیا تھا۔ اس فاؤل پر دی جانے والی پنالٹی پر بھی فورلان نے دوسرا گول کیا تھا۔ تیسرا اور آخری گول میچ ختم ہونے کے آخری لمحات میں الویرو پریرا نےکیا۔ یوروگوائے کی ٹیم کا آخری میچ میکسیکو سے ہو گا۔ گروپ اے میں سردست کچھ بھی واضح نہیں کہ کونسی دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں داخل ہوں گی۔

اسپین بمقابلہ سوئٹزرلینڈ

موجودہ ورلڈ کپ کی چار پسندیدہ ٹیموں میں سے ایک ہسپانیہ کی فٹ بال ٹیم ہے۔ بقیہ میں ارجنٹائن، برازیل اورانگلینڈ کی ٹیمیں ہیں۔ ہسپانوی ٹیم کو ایک اور یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کی ٹیم سے حیران کن انداز میں شکست ہوئی ہے۔ ایک گول سے شکست سے گروپ ایچ میں دلچسپ صورت حال سامنے آ ئی ہے۔ چلی اور سوئٹزر لینڈ کی ٹیمیں پہلی اور دوسری پوزیشن پر ہیں جب کہ ہونڈوراس اور سپین کی ٹیمیں بغیر کسی پوائنٹ کے ہیں۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ یورپ میں سوئٹزرلینڈ اور ڈنمارک کی ٹیموں کو بنیادی طور پر مضبوط دفاع کے ساتھ کھیلنے والی ٹیمیں تصور کیا جاتا ہے۔ سوس ٹیم کی جانب سے واحد گول گیلسن فرنانڈس نے دوسرے ہاف کے 17 ویں منٹ میں کیا۔ بعد میں ہسپانوی ٹیم اڑتیس منٹ تک میچ برابر کرنے کی کوششوں کرتی رہی لیکن وہ گول کرنے میں ناکام رہی۔ گروپ ایچ میں بقیہ دو ٹیمیں شاید ہی اگلے دو میچوں میں ہسپانوی ٹیم کو مزاحمت دے سکیں لیکن اگر اس کی پوزیشن دوسری رہتی ہے تو امکانی طور پر اس کا میچ پری کوارٹرفائنل کی ناک آؤٹ سٹیج میں برازیل کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

NO FLASH Fußball WM 2010 Südafrika Honduras gegen Chile

چلی اور ہونڈوراس کے درمیان میچ کا منظر

ہونڈوراس بمقابلہ چلی

جین بوسےژُور کے گول نے ہونڈوراس کی ٹیم کو مات دی۔ یہ گول پہلے ہاف میں کیا گیا۔ چلی کی ٹیم کو عالمی فٹ بال مقابلوں میں تقریباً نصف صدی کے بعد کامیابی ملی ہے۔ اس میچ میں چلی کے کھلاڑیوں نے بہت محنت اور ہمت سے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ چلی کو گروپ سٹیج میں اب اپ سیٹ کرنے والی سوئٹزر لینڈ کی ٹیم کا سامنا کرنا ہے۔ ورلڈ کپ میں آخری بار چلی کی شرکت سن 1962 میں ہوئی تھی۔ 48 سال پہلے تب اس نے یوگو سلاویہ کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن کا میچ جیتا تھا۔ ہونڈوراس بھی ورلڈ کپ میں اٹھائیس سال بعد شرکت کر رہا ہے۔

جمعرات کے میچ

فٹ بال ورلڈ کپ میں جمعرات کو کم از کم دو میچ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں گروپ اے میں میکسیکو اور فرانس کا میچ یقینی طور پر کانٹے دار ہونے کا امکان ہے۔ فرانس کا میچ جیتنا خاصا اہم ہے۔ ایک اور ڈرا کے بعد سابقہ عالمی چیمپیئن کے لئے صورت حال خاصی مشکل ہو سکتی ہے۔ ہار کی صورت میں وہ یقینی طور پر باہر ہو جائے گا۔ اسی طرح گروپ بی میں ارجنٹائن اور جنوبی کوریا کا میچ بھی دلچسپی کا حامل ہو گا۔ اس میچ سے گروپ لیڈر کا فیصلہ ہونے کے ساتھ یہ واضح ہو گا کہ کونسی ٹیم اگلے مرحلے کے لئے کوالیفائی کرے گی۔ جنوبی کوریا کی ٹیم گروپ بی میں پہلی پوزیشن پر ہے۔ یورپی ملک یونان اور نائجیریا کا میچ بھی دلچسپی کا حامل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM