1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’فیفا نے دھوکا دیا، اب بھی صدر ہوں‘، سیپ بلاٹر

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل سربراہ سیپ بلاٹر نے فیفا کی اخلاقیاتی کمیٹی کی جانب سے آٹھ سال کی پابندی عائد کیے جانے کے فیصلے پر اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اب بھی خود کو فیفا کا صدر سمجھتے ہیں۔

پیر کے روز ایک نیوزکانفرنس میں سیپ بلاٹر نے کہا کہ ’’میں اپنے لیے لڑوں گا، میں فیفا کے لیے لڑوں گا۔ آٹھ سال کے لیے معطلی کس لیے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگلے برس فروری میں فیفا کے نئے صدر کے انتخاب پر وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے، تو پھر یہ فیصلہ کس لیے سنایا گیا؟

پیر کے روز فیفا کی اخلاقیاتی کمیٹی نے سیپ بلاٹر اور یورپی فٹ بال کے سربراہ مِشیل پلاٹینی پر آٹھ برس کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فٹ بال کی ان دونوں نمایاں شخصیات پر رواں برس اکتوبر میں قریب دو ملین ڈالر کی ادائی کے تناظر میں جاری تفتیش کے دوران 90 روز کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ فیفا کی جانب سے سن 2011ء میں تقریباﹰ دو ملین ڈالر پلاٹینی کو ادا کیے گئے تھے، تاہم تفتیش کار اس سلسلے میں کرپش کے امکانات کے تناظر میں تفتیش آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات اس سلسلے میں خردبرد کے الزامات کو مسترد کرتی آئی ہیں۔

فیفا کی گورننگ باڈی کے اخلاقیاتی کمیٹی کی جانب سے یہ نئی آٹھ سالہ پابندی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی فٹ بال فیڈریشن فیفا کرپشن کے ایک سنگین اسکینڈل کا سامنا کر رہی ہے۔ اس پابندی سے اب یہ واضح ہے کہ گزشتہ 17 برس سے اس عالمی ادارے کے صدر کے طور پر فرائض انجام دینے والے بلاٹر اب اس کھیل سے دور ہو جائیں گے۔ ادھر پلاٹینی اگلے برس فروری میں ہونے والے فیفا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لے کر 79 سالہ بلاٹر کی جگہ لینے کے لیے پرامید تھے، تاہم اس فیصلے کے بعد اب ان کی یہ امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔

پلاٹینی ماضی میں فرانس کی قومی ٹیم کے اسٹار کھلاڑیوں میں سے ایک تھے اور سن 2002ء میں انہوں نے یورپی فٹ بال باڈی UEFA کی صدارتی سنبھالی۔ اس معطلی سے قبل وہ فیفا کے عہدہ صدارت کے لیے سب سے موزوں امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔

سوئس اٹارنی جنرل نے اعلان کیا تھا اخلاقیاتی کمیٹی کو بلاٹر کی طرف سے پلاٹینی کو ممکنہ غیرقانونی ادائیوں پر فوج داری کارروائی کرنا چاہیے۔

فیفا کی اخلاقیاتی کمیٹی سن 2018 کے عالمی کپ کی میزبانی روس اور سن 2022ء کی میزبانی قطر کو دیے جانے کے معاملے میں ممکنہ کرپشن کے الزامات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔