1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’فیفا میں انسداد بدعنوانی کی کمیٹی بنے گی‘

فیفا کے سربراہ سیپ بلاٹر نے کہا ہے کہ وہ فٹ بال کے اس نگراں عالمی ادارے میں بدعنوانی کے خلاف ایک کمیٹی بنانا چاہتے ہیں۔

default

فیفا کے سربراہ سیپ بلاٹر

ان کا یہ اعلان بدعنوانی کے حوالے سے فیفا گورننگ باڈی کو درپیش گزشتہ برس کے الزامات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ سیپ بلاٹر نے سوئٹزرلینڈ کے ایک اخبار ’زونٹاگ سائٹُنگ‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا، ’میں اس بات کا ذاتی طور پر خیال رکھوں گا کہ فیفا میں کوئی بدعنوانی نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی فیفا کی ساکھ کو مستحکم بنائے گی اور شفاف ادارے کی حیثیت سے اسے ایک نیا امیج حاصل ہو گا۔ سیپ بلاٹر نے یہ بھی کہا کہ اس کمیٹی میں سات سے نو ارکان شامل ہوں گے، جن میں کھیلوں کے شعبے کے علاوہ، سیاست، فنانس، بزنس اور ثقافتی میدان کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود اس کمیٹی کے رکن نہیں ہوں گے۔ بلاٹر نے کہا کہ اس کمیٹی کی تشکیل کی تجویز وہ رواں برس موسم گرما میں زیورخ میں منعقد کی جانے والی فیفا کانگریس میں پیش کریں گے۔ انہوں نے اس کمیٹی کی حتمی تشکیل کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ کمیٹی کیسے کام کرے گی۔

گزشتہ برس فیفا کی 24 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی کے دو ارکان رینالڈ تیماری اور آموس آدامو کو معطل کر دیا گیا تھا۔ ان پر 2018ء اور 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپس کی میزبانی کے حقوق کے لئے ووٹ بیچنے کا الزام تھا۔

اس کے نتیجے میں یہ دونوں ارکان گزشتہ ماہ ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکے تھے، جس کے لئے ان دونوں عالمی مقابلوں کی میزبانی کے حقوق بالترتیب روس اور قطر کو دئے گئے۔

Joseph Blatter Igor Shuvalov Hamad bin Khalifa Al-Thani FIFA WM Auslosung

آئندہ فٹ بال ورلڈ کپس کی ووٹنگ کے بعد سیپ بلاٹر روس اور قطر کے حکام کے ساتھ

خیال رہے کہ ووٹنگ سے قبل روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوتن نے برطانیہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ ووٹنگ کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب ووٹنگ کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے 2022ء کے ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دئے جانے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ درست نہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ خود بھی اس ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق حاصل کرنے کے لئے امیدوار تھا۔

بلاٹر نے اس انٹرویو میں پینلٹی شوٹ آؤٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کے طور پر کھیلتے ہوئے، ایک ایسے نظام پر عمل کرنا غلط ہے، جس سے ایک کھلاڑی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس