1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فیض: جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

مغرب میں ’نیرودا آف اردو پوئٹری‘ کہلائے جانے والے فیض احمد فیض نے سماجی مسائل کو مختلف احساسات سے جوڑتے ہوئے یادگار رومانوی گیتوں کا حصہ بنا دیا۔ بیس نومبر کو فیض احمد فیض کی 31ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

فیض احمد فیض

فیض احمد فیض

لبرل اور سیکولر اقدار پر یقین رکھنے والے فیض احمد فیض اپنی ترقی پسندانہ سوچ اور شاعری سے پاکستان کی اب تک کی تین نسلوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ خود کو مارکسسٹ کہنے والے فیض تیرہ فروری 1911ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اُن کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو لاہور میں ہوا۔ فیض نے سن 1962ء میں تب کے سوویت یونین سے لینن امن انعام بھی حاصل کیا تھا۔ انہیں سیاسی جدوجہد کی متعدد تحریکوں کا حصہ ہونے پر ملک کے آمروں نے کئی بار جیل بھی بھیجا۔

فنون اور اسلامی تاریخ و فلسفے کے پروفیسر سید نعمان الحق نے ڈی ڈبلیو سے اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ کس طرح فیض نے پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں انتہا پسندانہ نظریات کے جوابی بیانیےکو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔

پابلو نیرودا کو بھی تقریباﹰ ویسے ہی حالات کا سامنا رہا، جیسے فیض کو درپیش رہے

پابلو نیرودا کو بھی تقریباﹰ ویسے ہی حالات کا سامنا رہا، جیسے فیض کو درپیش رہے

جب پوچھا گیا کہ وہ کیا شے ہے، جو فیض کے انتقال کے تیس برس بعد بھی ان کی شاعری کو اہم بنائے ہوئے ہے، تو پروفیسر حق کا کہنا تھا، ’ان کی شاعری کے معیار اور شاعرانہ اظہاریے کی بات کی جائے تو اردو شاعری میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان کے استعارے، الفاظ، موسیقیت اور شاعرانہ خاکے کبھی متروک ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ یہ وقت سے ماورا معاملات ہیں۔ یہ کائناتی مسائل ہیں اور کسی خاص ملک یا گروہ تک موقوف نہیں۔‘

اس سوال کے جواب پر کہ فیض کی شاعری اپنی فطرت میں سیاسی رنگ لیے ہوئے ہے، اس کے پاکستان عوامی رویوں پر کیا اثرات پڑے، پروفیسر حق کا کہنا تھا، ’اچھی شاعری آگہی کے ایک محرک کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے مگر فیض اس جہت میں زیادہ مؤثر رہے، کیوں کہ ان کے ہاں روز مرہ کے محاورے ملتے ہیں۔ مگر مجھے کہنے دیجیے کہ یہ کوئی انوکھا اسلوب نہیں۔ میر، غالب اور حافظ جیسے عظیم شعراء نے ہمارے ذہنوں کو روشن کیا، ہمیں دنیا بھر میں موجود تنوع اور اختلافات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا سکھایا۔ فیض ایک طرف افریقہ کے مسائل پر پُرنَم دکھائی دیتے ہیں اور ساتھ ہی فلسطین کے مسئلے کی بابت بات کرتے نظر آتے ہیں۔ شاعری کی سب سے خاص بات ہی یہ ہے کہ یہ ہمیں دوسروں کا درد محسوس کرنا سکھاتی ہے۔ فیض کی شاعری میں مسلم انتہا پسندانہ نظریات کا برملا رد بھی دکھائی دیتا ہے۔ ‘

ڈاکٹر ایس نعمان الحق کے مطابق ’فیض احمد فیض کی شاعری کے استعارے، الفاظ، موسیقیت اور شاعرانہ خاکے کبھی متروک ہوتے دکھائی نہیں دیتے‘

ڈاکٹر ایس نعمان الحق کے مطابق ’فیض احمد فیض کی شاعری کے استعارے، الفاظ، موسیقیت اور شاعرانہ خاکے کبھی متروک ہوتے دکھائی نہیں دیتے‘

فیض احمد فیض اور چلی کے شاعر پابلو نیرودا کے موازنے اور یکساں اظہاریوں کی بابت پروفیسر نعمان الحق کا کہنا تھا، ’فیض اور نیرودا، دونوں کا تعلق تیسری دنیا سے تھا۔ فیض نے اپنی زندگی میں جیسے معاملات کا سامنا کیا، نیرودا کو بھی اپنے ملک میں تقریباً ویسے ہی مسائل دیکھنا پڑے۔

فیض اپنی شاعری میں صرف مجازی مسائل پر ہی توجہ نہیں دیتے بلکہ ٹھوس حقائق کا ذکر کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ نیرودا کے معاملے میں بھی یہ بات درست ہے۔ دونوں نے حقیقی مسائل کو موضوع بنایا۔ روٹی کی بات کی۔ سلامتی اور امن پر قلم اٹھایا۔ دونوں کی شاعرانہ حسیات ہی یکساں نہیں تھیں بلکہ ان کی زندگیوں سے جڑے سماجی و سیاسی مسائل بھی تقریباً ایک سے تھے۔‘

فیض احمد فیض کی شاعری سے انتخاب

صبح پھوٹی تو آسماں پہ ترے

رنگِ رخسار کی پھوار گری

رات چھائی تو روئے عالم پر

تیری زلفوں کی آبشار گری

ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد

فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے، دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے، رُخ زرد کے معنی سیکھے

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سراُٹھا کے چلے

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

متاحِ لوح و قلم چِھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے

ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے

ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن، نہ تھیں تری انجمن سے پہلے

سزا خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے

جو چل سکو تو چلو کہ راہِ وفا بہت مختصر ہوئی ہے

مقام ہے اب کوئی نہ منزل، فرازِ دار و رسن سے پہلے

ہم اہل قفس تنہا ہی نہیں، ہر روز نسیم صبحِ وطن

یادوں سے معطر آتی ہے، اشکوں سے منور جاتی ہے

یہ داغ داغ اُجالا‘ یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا‘ یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل

کہیں تو جا کے رُکے گا سفینۂ غمِ دل

DW.COM