1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فیض احمد فیض کا 99واں یوم پیدائش

فیض احمد فیض کا نام شعر وادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کا 99 واں یوم پیدائش ہفتہ 13 فروری کو ہے۔

اردو ادب کے بہت سے ناقدین کے نزدیک فیض احمد فیض غالب اور اقبال کے بعد اردو کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ میر غالب اور اقبال کے بعد جو دادوتحسین اور مقبولیت ان کے حصے میں آئی وہ شاید ہی کسی کےنصیب میں آئی ہو ۔ فیض ایک لازوال شاعر ہی نہیں بلکہ ان کی نثر بھی باکمال اور منفرد اسلوب کی حامل ہے۔

فیض نے شاعری شروع کی تواس وقت بہت سے قدآور شعراء موجود تھے جن کے درمیان خود کو منوانا آسان کام نہ تھا ۔ جگر مراد آبادی، فراق گورپوری اور جوش ملیح آبادی کے سامنے کسی کا چراغ نہ جلتا تھا۔ لیکن فیض کے منفرد انداز نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ان کی شعری تصانیف میں نقش فریادی، دست صبا ، زنداں نامہ ، دست تہ سنگ ، شام شہریاراں سروادئ سینا ، مرے دل مرے مسافر اور نسخہ ہائے وفا شامل ہیں۔

فیض انگریزی، اردو اور پنجابی کے ساتھ ساتھ فارسی اورعربی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے ان زبانوں کی کلاسیکی شاعری سےبراہ راست استفادہ کیا۔اردو کی کلاسیکی شاعری پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی۔

وہ 13 فروری انیس سو گیارہ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ انجمن ترقی پسند تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز کمیونسٹ رہے۔

فیض احمد فیض نے 1930 میں لبنانی شہری ایلس سے شادی کی۔ وہ بھی شعبہ تحقیق سے وابستہ تھیں اور فیض کی شاعری اورشخصیت سے متاثرتھیں۔

فیض نے 1935میں ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی پھر 1942 میں فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ہو گئے اور فوج کے محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا۔ 1943 میں میجر اور پھر1944 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پا گئے ۔ 1947 میں انھوں نے فوج سے استعفی دے دیا اور 1959ء میں پاکستان آرٹس کونسل میں سیکریٹری تعینات ہوئےپھر 1962 تک وہیں کام کیا ۔ اس کے علاوہ ادبی رسالہ ادب لطیف کے مدیراور اس کے بعد روزنامہ پاکستان ٹائمز، روزنامہ امروز اور ہفت روزہ لیل ونہار کے مدیر اعلٰی رہے۔

9 مارچ1951 کو فیض احمد فیض راولپنڈی سازش کیس میں معاونت کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے ۔انھوں نے چار سال سرگودھا، ساہیوال ، حیدرآباد اور کراچی کی جیل میں گزارے۔ دو اپریل 1955 کو انہیں رہا کر دیا گیا ۔

کلاسیکی شعراء کی گہری چھاپ ان کے ہاں نطر آتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ترقی پسندی کی تندوتیز آندھی میں بھی ان کی شاعری کا معیار برقرار رہا ۔ ایک کامیاب اور نشیب وفراز سے بھر پور زندگی گزارنے کے بعد فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو انتقال کر گئے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: ندیم گِل