1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیصل شہزاد کے رشتہ داروں سے تفتیش FBI سرگرم

نیویارک میں ناکام کار بم حملے سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی امریکی تحقیقاتی ادارے کی تین رکنی ٹیم پاکستان میں سرگرم ہوگئی ہے۔

default

اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان پہنچنے والے ایف بی آئی کے اہلکار فیصل شہزاد کے والد، سسر اور دوستوں سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر فیصل کا رجحان انتہا پسندی کی جانب کیسے بڑھا۔

ذرائع کے مطابق امریکی اہلکار اس بات کی بھی کھوج لگانے کی کوشش کریں گے کہ کیا پاکستانی انتہا پسندوں نے بم کی تیاری کے لئے فیصل شہزاد کو ’ہنڈی یا حوالے‘ کے ذریعے پاکستان سے رقم بھجوائی تھی یا نہیں۔

Faisal Shahzah / New York / vereiteltes Attentat

فیصل شہزاد کو تاحال عدالت میں پیش نہیں کیا گیا

پاکستانی سیکیورٹی حکام نے فیصل کے بعض مبینہ دوستوں کو حراست میں لے رکھا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ بعض رپورٹوں میں ان کا تعلق کالعدم عسکری تنظیم جیش محمد سے بتایا جاتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق فیصل شہزاد نے پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق فیصل شہزاد کے والد ریٹائرڈ ایئر مارشل بہار الحق کو بھی ’حفاظتی حصار‘ میں لیا گیا ہے تاہم حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

ادھر امریکی سینٹ میں انٹیلی جینس امور سے متعلق کمیٹی کے سربراہ کٹ بونڈ نے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات کے ساتھ سیاسی کھیل رہے ہیں۔

اس ری پبلکن سینیٹر نے یہ بات فیصل شہزاد سے متعلق جاری تحقیقات کے تناظر میں جاری کئے گئے ایک بیان میں کہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ محکمہ انصاف جس کی سربراہی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کررہے ہیں صرف میڈیا پر دکھاوے کی حد تک محدود معلومات فراہم کررہا ہے۔

Slowakei Treffen NATO Verteidigungsminister General Stanley McChrystal

جنرل مک کرسٹل نے مبینہ طور پر جنرل اشفاق کیانی پر زور دیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع کی جائے

دوسری طرف امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں افغانستان متعین غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل سٹین لے مک کرسٹل نے پاکستانی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کرکے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لئے دباؤ بڑھایا ہے۔

رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ میں کوئی ’کامیاب دہشت گردانہ‘ کارروائی ہوئی تو امریکی افواج پاکستان کے اندر زمینی کارروائی بھی کرسکتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن ، ایک امریکی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں کہہ چکی ہیں کہ اگر نیویارک میں کار بم حملہ کامیاب ہوتا اور اس کی کڑیاں پاکستان سے ملتی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM